مفتی کفایت اللہ پر فائرنگ کرنے والا بیٹا گرفتار ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
سٹی42: مفتی کفایت اللہ کو زخمی کرنے اور ان کی اہلیہ ، بیٹے اور بیٹیوں پر فائرنگ کر کے فرار ہونے والا بیٹا گرفتار ہو گیا۔
ملاکنڈ کے ڈپٹی کمشنر حامد الرحمان نے بتایا ہے کہ ملزم نے اپنے والد مفتی کفایت اللہ، بھائی عصمت اللّٰہ اور 2 بہنوں پر فائرنگ کی تھی، مفتی کفایت اللّٰہ کو فائرنگ کے بعد ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر اور ان کی ایک بیٹی زیر علاج ہے۔
جعلی ادویات کا خاتمہ، 2D بارکوڈ نظام پر عمل درآمد کیلئے اہم اجلاس طلب
مالاکنڈ کی تحصیل بٹ خیلہ میں جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر مفتی کفایت اللّٰہ کے گھر میں آج اچانک فائرنگ کا خوفناک واقعہ پیش آیا تھا۔ مفتی صاحب کے بیٹے نے والد، بھائی اور بہنوں پر فائرنگ کر دی تھی اور گھر سے بھاگ گیا تھا۔ اس فائرنگ سے مفتی کفایت اللّٰہ کا ایک نوجوان بیٹا اور بیٹی جاں بحق ہوگئے جبکہ مفتی کفایت اللّٰہ اور انکی اہلیہ زخمی ہوئے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پر فائرنگ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔