استور میں اللّٰہ والی جھیل کے قریب بدترین سیلاب
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
اسکرین گریب
گلگت بلتستان کے ضلع استور میں اللّٰہ والی جھیل کے قریب بدترین سیلاب، پہاڑوں سے بڑے بڑے پتھر ریلے میں بہہ کر آبادی میں آگئے۔
ریلا راستے میں آئی ہر رکاوٹ بہالے گیا، کنارے پر بنا ایک مکان بھی بہہ گیا، سیلاب سے زرعی زمین، فصلوں اور مکانوں کو نقصان پہنچا۔
گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ کے مطابق، حالیہ سیلاب سے گلگت بلتستان میں سات افراد جاں بحق اور گیارہ زخمی ہوئے، چار اب تک لاپتہ ہیں۔
سیلابی ریلے سے نلتر ایکسپریس وے کا بڑا حصہ بہہ گیا، نلتر ویلی میں سیاح پھنس گئے، نلتر میں تین بجلی گھروں کو بند کردیا گیا۔
اسکردو میں شاہراہ بلتستان پر باغیچہ آرسی سی پُل بہہ گیا، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑک متعدد مقامات پر بند ہوگئی۔
گانچھے میں سرمو پُل اور ضلع شگر میں بھی تین رابطہ پل دریا میں بہہ گئے، سیلاب سے تین سو بیس مکان تباہ اور تقریبا ً سات سو کو جزوی نقصان پہنچا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔