کراچی؛ ڈیفنس میں مسلح ملزمان کی فائرنگ سے سیکیورٹی گارڈ قتل، رائفل چھین کر فرار
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
کراچی:
ڈیفنس میں نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے سیکیورٹی گارڈ کو قتل کر دیا اور اس کی رائفل چھین کر فرار ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح گزری تھانے کے علاقے ڈی ایچ اے فیز6 خیابان شہباز میں واقع بنگلے کے باہر نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے سیکیورٹی گارڈ کو قتل کر دیا اور فرار ہوگئے، فائرنگ کے واقعے کی اطلاع منے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرکے واقعے کی تفتیش شروع کر دی۔
مقتول سیکیورٹی گارڈ کی لاش قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی جہاں مقتول سیکیورٹی گارڈ کی شناخت 23 سالہ آریان ولد محمد اسلم کے نام سے کی گئی، مقتول سیکیورٹی گارڈ کا آبائی تعلق نوشہرو فیروز سے تھا۔
ایس ایچ او گزری اصغر کانگو نے ایکپسریس کو بتایا کہ مقتول خیابان شہباز میں واقع بنگلے پر سیکیورٹی گارڈ تعینات تھا اور ناشتا لینے کے لیے جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار 3 نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے سیکیورٹی گارڈ کو قتل کر دیا اور مقتول سیکیورٹی گارڈ کے پاس موجود 224 رائفل چھین کر فرار ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس واقعے کی سی سی ٹی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ واقعے میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا کران کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔