جاپان نے ایک بار پھر اپنی حیرت انگیز ٹیکنالوجی سے دنیا کو چونکا دیا ۔ اوساکا کی معروف شاور ہیڈ بنانے والی کمپنی “سائنس” نے Mirai Ningen Sentakukiکے نام سے ایک ایسی شاور مشین متعارف کرائی ہے، جسے لوگ کی انسانی واشنگ مشین کہہ رہے ہیں۔
یہ کوئی عام شاور نہیں بلکہ ایک ہائی ٹیک شفاف کیپسول ہے جس میں بیٹھ کر صرف  15 منٹ میں نہایا، سکھایا اور ری فریش ہوا جا سکتا ہے — اور وہ بھی بغیر کسی جھنجھٹ کے۔
شاور کیپسول کیسے کام کرتا ہے ؟
Mirai Ningen Sentakuki کا ڈیزائن سائنس فکشن فلموں کے “کاک پٹ” جیسا ہے۔ صارف اس کے اندر بیٹھتا ہے، جہاں آدھا کیپسول گرم پانی سے بھرا ہوتا ہے۔ اس کے بعد مائیکرو بلبلز (صرف 3 مائیکرون سائز کے) — جو کہ تیز واٹر جیٹس کے ذریعے جلد پر چھوڑے جاتے ہیں — جلد کی گہرائی تک صفائی کرتے ہیں۔ یہ ببلز جب پھٹتے ہیں تو ہلکی مگر طاقتور لہر پیدا کرتے ہیں، جو میل کچیل کو بغیر کسی کیمیکل کے صاف کر دیتے ہیں۔ یہی تکنیک نازک الیکٹرانک آلات کی صفائی کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے، یعنی نہ صرف محفوظ بلکہ مؤثر بھی۔
  صرف صفائی نہیں، ذہنی سکون بھی
یہ شاور کیپسول صرف جسمانی صفائی تک محدود نہیں۔ اس میں موجود سینسرز دل کی دھڑکن، جسم کا درجہ حرارت اور جذباتی کیفیت مانیٹر کرتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے پانی کا درجہ حرارت خود بخود ایڈجسٹ ہوتا ہے
ذہنی حالت کے مطابق اندرونی ماحول بدلا جاتا ہے – جیسے اگر آپ دباؤ کا شکار ہیں، توسمندر کی لہروں یا جنگل کی پر سکون ویڈیوز  چلتی ہیں، موسیقی بھی شامل ہوتی ہے۔ یعنی یہ صرف نہانے کا عمل نہیں بلکہ ایک   مکمل ریلیکسیشن تھراپی ہے۔
خواب سے حقیقت تک کا سفر
اس منفرد ایجاد کی جڑیں 1970 کی اوساکا ورلڈ ایکسپو تک جاتی ہیں، جہاں سانیو کمپنی نے پہلی بار ایک الٹراسونک باتھ ڈسپلے کیا تھا۔ اُس وقت ایک بچے یاسوکی ایوما پر اس نے گہرا اثر چھوڑا۔ آج وہی بچہ سائنس کمپنی کا چیئرمین ہے۔
ایوما کہتے ہیں اس حمام نے مجھے مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا تھا، اور آج ہم اس خواب کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔”
کب اور کہاں؟

یہ جدید شاور کیپسول اوساکا کنسائی ایکسپو میں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا، جہاں 1,000 خوش نصیب افراداسے آزما سکیں گے۔ کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر ریزرویشنز کا آغاز بھی کر دیا ہے۔
مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ کمپنی اس کا ہوم ورژن بھی تیار کر رہی ہے تاکہ عام لوگ بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ البتہ، قیمت اور وسیع دستیابی کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل
اس ایجاد نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی ہے
کچھ نے اسے غسل کا مستقبل قرار دیا تو کچھ نے شفاف کیپسول کی رازداری پر سوال اٹھائے
ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ اب ہمیں نہانے کے لیے واشنگ مشین میں بیٹھنا پڑے گا؟
کن کے لیے خاص طور پر فائدہ مند؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ایجاد معمر افراد،نقل و حرکت میں محدود افرا کے لیے ایک بہت بڑی سہولت ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ نہ صرف یہ خودکار ہے بلکہ محفوظ اور آرام دہ بھی۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف