پاکستان میں جدید بینکاری کا نیا دور، اسٹیٹ بینک نے پرزم پلس متعارف کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
پاکستان میں جدید بینکاری کا نیا دور، اسٹیٹ بینک نے پرزم پلس متعارف کرادیا جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں رئیل ٹائم انٹربینک پیمنٹ سیٹلمنٹ سسٹم کے نئے ورژن پرزم پلس کے آغاز سے ملک میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا نیا باب کھل گیا ہے۔
وہ اسٹیٹ بینک میں پرزم پلس کی تعارفی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
تقریب میں اسٹیٹ بینک کے اعلی عہدے داران سمیت بینکنگ انڈسٹری کی چیدہ شخصیات عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک نے رئیل ٹائم سیٹلمنٹ کے زریعے کی جانے والی ٹرانزیکشنز کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ پرانے نظام کے تحت گزشتہ برس ایک ہزار 43 کھرب روپے مالیت کی ٹرانزیکشنز پروسیس کی گئیں، جو ملکی جی ڈی پی سے دس گنا زیادہ ہیں۔
ان میں سب سے زیادہ حصہ 730 کھرب روپے مالیت کی حکومتی سیکیورٹیز کے لین دین کا تھا، جب کہ حجم کے اعتبار سے 91 فیصد ٹرانزیکشنز تیسرے فریق کے کسٹمر ٹرانسفرز پر مشتمل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ موبائل بینکنگ ایپس کے 2 کروڑ 80 لاکھ، برانچ لیس بینکنگ کے 7 کروڑ 10 لاکھ اور انٹرنیٹ بینکنگ کے ایک کروڑ 70 لاکھ صارفین اس ڈیجیٹل تبدیلی کا ثبوت ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پرزم پلس جدید عالمی معیار ISO 20022 پر مبنی ہے جو مالیاتی لین دین میں شفافیت، سیکورٹی اور باہمی ربط کو مزید مضبوط کرے گا۔ اس نظام میں لیکویڈیٹی مینجمنٹ ٹولز، مستقبل کی ادائیگیوں کی شیڈولنگ اور مرکزی سیکیورٹیز ڈپازٹری کے ساتھ مربوط فیچرز شامل ہیں، جو نیلامیوں، کولیٹرل مینجمنٹ اور اوپن مارکیٹ آپریشنز کو مزید سہل بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے متعارف کرایا گیا یہ نظام پاکستان کی مالیاتی صنعت اور کاروباری برادری کے لیے ایک انقلابی پیش رفت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک پرزم پلس
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔