امریکا نے 6 ہزار سے زائد غیرملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ 6 ہزار سے زیادہ غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ محکمہ کے مطابق یہ اقدام امریکی قوانین کی خلاف ورزی، قیام کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی ملک میں موجود رہنے اور بعض سنگین جرائم میں ملوث ہونے پر کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ منسوخ کیے گئے ویزوں میں زیادہ تر کیسز میں طلبہ پر ڈرائیونگ انڈر دی انفلوئنس (DUI)، چوری، تشدد اور مبینہ طور پر دہشتگردی کی حمایت جیسے الزامات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق تقریباً 4 ہزار ویزے قانون شکنی کی بنیاد پر جبکہ 200 سے 300 ویزے ’انسدادِ دہشتگردی‘ کے قوانین کے تحت منسوخ کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے فلسطینیوں کی حمایت جرم قرار، امریکا نے غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے
ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کے تحت بین الاقوامی طلبہ کی ویزا اسکریننگ مزید سخت کر دی گئی ہے۔ اس سال سے تمام طلبہ کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ظاہر کرنے اور ان کی جانچ کے عمل سے گزرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ امریکی اقدار، ثقافت یا شہریوں کے خلاف کسی قسم کی ’دشمنی‘ کی نشاندہی ہو سکے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس کو بتایا کہ جنوری سے ہزاروں ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں اور مزید اقدامات زیرِ غور ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بین الاقوامی طلبا کے ویزوں کی منسوخی، نئی امریکی پالیسی کیا ہے؟
دوسری جانب ڈیموکریٹ اراکین نے اس پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ’بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف‘ قرار دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2023-24 تعلیمی سال میں امریکا میں 210 سے زائد ممالک کے 11 لاکھ سے زیادہ غیر ملکی طلبہ زیر تعلیم تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا غیرملکی طلبہ و طالبات ویزا منسوخی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا غیرملکی طلبہ و طالبات ویزا منسوخی ویزے منسوخ
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔