عراقی پارلیمنٹ و قومی سلامتی کے پارلیمانی کمیشن کے رکن نے اعلان کیا ہے کہ بغداد میں واقع امریکی سفارتخانہ، ملکی پارلیمنٹ میں حشد الشعبی سے متعلق قانون کی منظوری کو روکنے کیلئے سیاسی رہنماؤں پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے اسلام ٹائمز۔ عراقی پارلیمنٹ کے سکیورٹی اینڈ ڈیفنس کمیشن کے رکن علی البنداوی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حکومت، عراقی خودمختاری کو کمزور بنانے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ علی البنداوی نے الفرات ٹی وی کو بتایا کہ بغداد میں واقع امریکی سفارتخانہ سیاسی رہنماؤں پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ کچھ اہم قوانین کی کسی صورت منظوری نہ دیں، خاص طور پر حشد الشعبی سے متعلق قانون کی! انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے، امریکہ میں انجام پانے والے منظم جرائم کا بغداد کے ساتھ موازنہ، عراقی خودمختاری کو کمزور بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
عراقی رکن پارلیمنٹ نے تاکید کی کہ بغداد میں خودمختاری، پارلیمنٹ اور ایک منتخب حکومت موجود ہے اور ہم ہمیشہ امریکی حکومت یا دوسرے ممالک کی مداخلتوں کی واضح مذمت کرتے آئے ہیں۔ علی البنداوی نے تاکید کی کہ ان بیانات کا مقصد مساوات و حساب کتاب کو درہم برہم کر دینا ہے تاکہ امریکی حکومت عراق کے اندرونی معاملات میں بآسانی مداخلت کر سکے۔ اپنی گفتگو کے آخر میں انہوں نے مزید کہا کہ عراق کے پاس تمام حفاظتی آلات موجود ہیں جو پورے ملک میں سلامتی کو برقرار رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ

فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔

بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن