چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای آج پاکستان پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
چین کے وزیرِ خارجہ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی پولیٹ بیورو کے رکن، مسٹر وانگ ای آج اسلام آباد پہنچیں گے۔ وہ پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر دورہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے چین اور بھارت ایک دوسرے کو حریف نہیں، شراکت دار سمجھیں، چینی وزیر خارجہ
دورے کے دوران دونوں وزرائے خارجہ چھٹے پاکستان چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ یہ مکالمہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کا تسلسل ہے جس کا مقصد ’ہر موسم کی اسٹریٹجک شراکت داری‘ کو مزید گہرا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے چینی وزیر خارجہ کا دورہ بھارت: سرحدی کشیدگی میں کمی اور اعتماد کی بحالی ایجنڈے میں شامل
دورے میں دونوں ممالک باہمی دلچسپی کے امور پر حمایت کے اعادے کے ساتھ ساتھ تجارت اور معیشت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات کریں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور چین خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے اپنے عزم کو بھی دہرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
قبل ازیں چین کے وزیر خارجہ نے بھارت کا دورہ کیا۔ ذرائع کے مطابق اس دورے کا مقصد بھارت اور چین کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی میں کمی لانا، تعلقات کی بہتری کے لیے اقدامات کرنا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای دورہ پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چینی وزیر خارجہ وانگ ای دورہ پاکستان چین کے
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔