حیدرآباد میں ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش ناکام بنادی گئی، 3 دہشتگرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
حیدرآباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اگست 2025ء ) صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 3 دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حیدرآباد کے علاقہ قاسم آباد میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ڈی ڈی) نے خفیہ اطلاعات ملنے پر کارروائی کرتے ہوئے ریلوے ٹریک پر دہشت گردی کی کوشش ناکام بنا دی اور 3 دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا، جن کا تعلق کالعدم تنظیم ایس آر اے سے ہے، گرفتار ملزمان میں عامر لطیف چانگ، شعیب چانگ اور شعبان چانگ شامل ہیں، جن کے قبضے سے دو ہینڈ گرینیڈ، بارودی مواد، ڈیٹونیٹر، بال بیئرنگ، نٹ بولٹ، ریموٹ کنٹرول، تاریں اور دیگر غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا۔
ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ملزمان پنجاب جانے والے کارگو ٹریلرز پر فائرنگ میں ملوث رہے، عامر لطیف چانگ ریلوے ٹریک پر بم دھماکے کا مرکزی ملزم ہے، جس پر 20 لاکھ روپے کا ہیڈ منی مقرر تھا، ایس آر اے نیٹ ورک نور چانڈیو کے زیرِ نگرانی چل رہا تھا، ملزمان نے نور چانڈیو کے کہنے پر دہشتگردی کا منصوبہ بنایا، تاہم 14 اگست کو یہ منصوبہ سخت سکیورٹی کے باعث ناکام رہا، ملزمان سے تفتیش کی روشنی میں مزید گرفتاریوں کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔(جاری ہے)
دوسری طرف صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز نے ریلوے اسٹیشن پر خود کش حملے کے سہولتکار کی نشاندہی پر خود کش بمبار تیار کرنے والے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی پروفیسر سمیت فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار دہشت گردوں نے جشن آزادی کی تقریبات میں خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا منصوبہ بنایا تھا۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جولائی کے آخری ہفتے میں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں نے اگست کے آغاز سے ہی کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کا منصوبہ بنایا ہے جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردی کے منصوبے کو ناکام بنانے کی حکمت عملی تیار کی اور صوبے بھر میں دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا کہ 11 اگست کو کوئٹہ سے ایک خود کش حملہ آور کو گرفتار کیا گیا، جس نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ اسے خود کش حملے کے لیے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے تیار کیا اس کے علاوہ اور بھی بمبار تیار کیے گئے ہیں، گرفتار بمبار کی نشاندہی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے خودکش بمبار تیار کرنے والے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کو افنان ٹاؤن سے گرفتار کیا اور اس کی نشاندہی پر مزید ایک اور بمبار کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گرفتار کرلیا ریلوے ٹریک کو گرفتار کرنے والے
پڑھیں:
داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
اوقاف بورڈ نے زائرین کے نذرانوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے کے الزام میں داتا دربار کے 5 سینئر افسران کو سزا سنادی۔
ملزمان میں سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد، سابق مینجر طاہر مقصود، سابق اسٹینو گرافر ثاقب نسیم سمیت دیگر ملازمین شامل ہیں۔
محکمہ اوقاف بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے انکوائری کے بعد سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو انکے اصل مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لئے کم درجے کے عہدے (BS-15) اور پے اسکیل پر تنزلی کا حکم دیا ہے۔
شیخ جمیل احمد کی 5 سال کی پچھلی سروس بھی ضبط کر لی گئی ہے، انہیں 9,265,800 روپے ادا کرنے ہوں گے جبکہ انکے سروس ریکارڈ میں منفی اندراج بھی کیا جائے گا، مستقبل میں اُنہیں کسی بھی کیش ہینڈلنگ آفس یا فیلڈ ریونیو پوسٹ پر تعینات کرنے پر مستقل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اسی طرح سابق مینیجر داتا دربار طاہر مقصود کو سرکاری ملازمت سے برطرفی کی سزا دی گئی ہے، اسکے ساتھ 11,324,867 روپے (ان کا 55 فیصد واجب الادا حصہ) کی انفرادی مالیاتی ریکوری اور مستقبل میں فیلڈ پوسٹنگز پر مستقل پابندی عائد کی گئی ہے۔
سابق اسٹینو گرافر ایڈمنسٹریٹر آفس ثاقب نسیم کو 4 سال کی مدت کےلئے پچھلی سروس ضبط کرنے کی سزا دی گئی ہے اور ان پر انتظامی پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کسی بھی خفیہ برانچ ایڈمنسٹریٹر دفاتر اور حساس دفاتر یا سی سی ٹی وی سیکیورٹی سے متعلقہ سائنمنٹس پر تعینات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
سابق کیئر ٹیکر نور حسین کو تین سال کی مخصوص مدت کےلئے سالانہ ترقیاں روکنے کی سزا دی گئی ہے اور انہیں داتا دربار یا کسی بھی بڑے کیش جنریٹنگ مزار پر مستقبل میں تعینات کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
سابق کیئر ٹیکر محمد شریف اگرچہ اس مخصوص انکوائری رپورٹ کے الزامات سے بری ہو گئے ہیں لیکن مزار پر ایک زائر سے نقدی چوری کرنے کی وائرل ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد انکے خلاف فوری طور پر علیحدہ اور آزادانہ تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انہیں داتا دربار یا کسی بھی دوسرے بڑے مزار پر تعیناتی سے مستقل طور پر روک دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقدس مذہبی اداروں کے اندرکرپشن عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے، کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے گا۔