ترجمان حریت کانفرنس نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت فردجرم عائد کئے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ اسلام ٹائمز۔  کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو بھارتی ریاستی دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت فردجرم عائد کئے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی مسلسل پرتشدد کارروائیوں اور حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ سمیت حریت رہنمائوں محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی اور دیگر کی مسلسل غیر قانونی نظربندیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری انسانی حقوق کے کارکنوں کو مودی حکومت کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور خوف و دہشت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی ظلم و تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے پر خرم پرویز، عرفان معراج اور انسانی حقوق کے دیگر کارکن جھوٹے مقدمات میں غیر قانونی طور پر نظربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنے کیلئے دھمکیاں دینے کے علاوہ ہراساں کیا جا رہا ہے۔

بی جے پی حکومت انسداد دہشت گردی کے قوانین کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی حکومت اور این آئی اے اور ایس آئی اے جیسے بدنام زمانہ تحقیقاتی اداروں کی طرف سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی املاک اور جائیدادوں کی ضبطگی کو مودی حکومت کی منظم مہم کا حصہ قرار دیا۔ حریت ترجمان نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگینی صورتحال کا جائزہ لیں اور کشمیری عوام پر ظلم و تشدد کو رکوانے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مودی حکومت اور مقبوضہ علاقے میں اس کی قابض انتظامیہ اپنے ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کو اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے روک نہیں سکتی۔ حریت ترجمان نے بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کو ہراساں کرنے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کی شدید مذمت کی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی رہائی کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انسانی حقوق کے کارکنوں حریت کانفرنس انہوں نے

پڑھیں:

محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور

انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع  کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز