انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت میں ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کے خلاف تشدد اور دھمکیاں دینے کے مقدمہ کے سماعت ہوئی، پولیس نے فرحان غنی سمیت دیگر کو عدالت میں پیش کردیا، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا نام ہیں ملزمان کے اور الزمات کیا ہیں؟

تفتیشی افسر نے عدلت کو بتایا کہ ملزمان نے مدعی مقدمہ سمیت دیگر کو مارا پیٹا ہے، پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ مدعی مقدمہ اہلکارروں کی نگرانی میں کام کررہے تھے، عدالت نے استفسار کیا کہ جنھیں مارا ہے وہ کس ادارے کے اہلکار و ملازم تھے؟ پراسیکیوٹر ادارے کے حوالے سے عدالت کو کوئی جواب نہ دے سکے۔

مزید پڑھیں:  سرکاری ملازم پر تشدد کا کیس: سعید غنی کے بھائی فرحان غنی راہداری ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں 14 دن کا ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش کرسکیں، عدالت نے ملزمان سے استفسار کیا کہ آپ کے وکیل کہاں ہیں ہیں، فرحان غنی نے جواب دیا کہ ہمارا وکیل نہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ اس کیس میں اے ٹی اے کی دفعہ کیوں لگائی گئی ہے؟ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مدعی اور سرکاری ملازمین دیگر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس وجہ سے اے ٹی اے لگائی ہے۔

عدالت نے ایک بار پھر استفسار کیا کہ ملازمین کیا کام کررہے تھے، پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ فائبر کی کیبل کا کام کررہے تھے، فرحان غنی نے عدالت میں بیان دیا کہ میں نے کوئی تشدد نہیں کیا مجھ پر جھوٹا الزام ہے، میں وہاں سے گزر رہا تھا تو میں نے روک کر پوچھا کیا کام کرہے ہو اور کس کی اجازت سے؟ میں ٹاؤن چئیرمین ہوں میرا اختیار ہے پوچھنا اور غیر قانونی کام کو روکنا، میں روڈ کھدائی کا پرمیشن مانگا لیکن انھوں نے نہیں دیا۔

مزید پڑھیں: سعید غنی کا بھائی فرحان غنی گرفتار، انسدادِ دہشتگردی سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج

عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ آپ نے ملزمان کو گرفتار کیا ہے یا یہ خود چل کر آہے ہیں تفتیسشی افسر نے بتایا کہ ملزمان خود تھانے آئے تھے کیا ملزمان خود چل کر آتے ہیں؟ عدالت نے ملزمان کو 28 اگست تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا، آئندہ سماعت پر ملزمان کو پروگریس رپورٹ کے ہمراہ پیش کرنے کا حکم، ملزمان میں فرحان غنی، شکیل، قمر احمد شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت سعید غنی فرحان غنی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت استفسار کیا کہ عدالت میں عدالت نے

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا