اداکارہ عروسہ صدیقی 7 سال بعد دوسرے بچے کی ماں بن گئیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
ابھرتی ہوئی اداکارہ عروسہ صدیقی چند ماہ سے شوبز انڈسٹری سے غائب تھیں جس کی وجہ ایک خوشخبری کی صورت میں سامنے آگئی۔
ڈراما قدوسی صاحب کی بیوہ سے شہرت حاصل کرنے والی معروف اداکارہ 40 سالہ عروسہ صدیقی نے بالآخر مداحوں کو اپنی غیر حاضری کی وجہ بتا دی۔
ہمیشہ خوش مزاج اور پُرخلوص نظر آنے والی عروسہ صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت لمحے سے گزری ہیں۔
اداکارہ نے انکشاف کیا کہ وہ ایک ماہ قبل دوسرے بیٹے کی ماں بنی ہیں۔ ننھے فرجاد کی آمد نے ان کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیا ہے۔
عروسہ صدیقی نے اپنے وی لاگ میں یہ خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ یہ ان کا دوسرا بچہ ہے۔ پہلا بیٹا سات سال قبل پیدا ہوا تھا۔
عروسہ صدیقی نے بتایا کہ چالیس سال کی عمر میں ماں بننے کے باعث اس بار ریکوری کچھ مشکل رہی لیکن ساس اور سسر کی سپورٹ نے سب آسان کر دیا۔ وہ لاہور سے آ کر ان کے ساتھ رہے اور ہر طرح کا سہارا دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔