Express News:
2026-06-03@02:29:14 GMT

قانوناً حرام بستیوں کو حلال کرنے کا راستہ

اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT

فلسطین میں پہلی یورپی صیہونی آبادکار بستی اٹھارہ سو اسی کے عشرے میں بنی تھی۔تب یورپ سے آنے والے یہ مہمان کمزور تھے اس لیے زمین خریدتے تھے۔پھر یہ نظریہ ایجاد ہوا کہ ہمارا اس دنیا میں اپنا کوئی گھر نہیں لہٰذا فلسطین میں ہمیں اپنی ایک ریاست چاہیے۔یہ فرمائش بھی ستتر برس پہلے زور زبردستی سے پوری ہو گئی۔

آج صیہونی مشرقِ وسطی کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہیں اس لیے کسی قاعدے قانون کو خاطر میں لائے بغیر یہ نعرہ لگا کے قبضہ کر لیتے ہیں کہ تم یہاں سے جتنی جلد ممکن ہو خالی کردو ورنہ اسی خدا تک تم پہنچا دیے جاؤ گے جس نے ہمیں اس زمین کی ملکیت ساڑھے تین ہزار برس پہلے آسمانی صیحفوں میں دی ہے۔دیکھا جائے تو اس خطے میں سب سے بڑی غیر قانونی و غیر اخلاقی آبادکار خود ریاستِ اسرائیل ہے اور اب اس آبادکار مافیا کی قبضہ پالیسی انتہائی متشدد ہو گئی ہے۔

 مقبوضہ مغربی کنارے پر اٹھاون برس میں ڈھائی سو کے لگ بھگ چھوٹی بڑی جبری بستیاں دراصل وہ پھوڑے ہیں جنھوں نے مقبوضہ فلسطین کے جسدِ خاکی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔بالخصوص سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے ہدف یہ ہے کہ قبضہ گیر طوفانی مسموم ہوا سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کی امید کا آخری شعلہ ہی بجھا دیا جائے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے رابطہ دفتر کے مطابق اس وقت غربِ اردن کی فلسطینی بستیوں اور اراضی پر روزانہ اوسطاً چار مسلح حملے ہو رہے ہیں۔اگرچہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف انیس سو سڑسٹھ میں کیے گئے پورے اسرائیلی قبضہ کو ناجائز قرار دے چکی ہے۔ نیز جنیوا کنونشنز کے تحت کسی بھی مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب اور جغرافیائی ہئیت میں تبدیلی بین الاقوامی جرم ہے مگر اسرائیل کی دلیل یہ ہے کہ جو زمین خدا نے عطا کی اس پر دنیاوی قانون لاگو نہیں ہو سکتا۔

بی بی سی کے ایک سینیر ایڈیٹر جیرمی بووین صحافتی زندگی کا یشتر حصہ مشرقِ وسطی میں گذار چکے ہیں۔انھوں نے حال ہی میں آنکھوں دیکھی کے لیے مقبوضہ علاقے میں چند دن گذارے اور آبادکاروں سے ملاقات کی۔جیرمی کے مطابق مغربی کنارے پر ایک مسلح جتھے ’’ ہل ٹاپ یوتھ ‘‘ کے سرخیل مائر سمچا کے بقول ’’ کل ( یعنی اکتوبر دو ہزار تئیس ) سے آج تک حالات بہت بدل گئے ہیں۔اب ہم اس خوف کے بغیر پورے علاقے میں جب اور جہاں چاہیں گھوم سکتے ہیں کہ کوئی ہم پر حملہ کر دے گا۔اگرچہ دوسری جانب ( فلسطینی ) تھوڑی بہت مزاحمت ضرور ہے مگر دشمن آہستہ آہستہ سمجھ چکا ہے کہ اب اس کا یہاں کوئی مستقبل نہیں۔چنانچہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ دنیا اس چھوٹے سے گروہ (فلسطینی ) کے درد میں اب تک کیوں مبتلا ہے ‘‘۔

مائر سمچا کا اعتماد یونہی نہیں ہے۔اس کے نسل کش نظریاتی گرو اقتدار میں ہیں اور ریاست فی الحال ان کی سیاسی مٹھی میں ہے۔چنانچہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اب ایسے آبادکاروں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو محض اس لیے نہیں بس رہے کہ زمین سستی ہے بلکہ وہ اپنے تئیں ایک خدائی مشن پورا کر رہے ہیں۔

اس وقت مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں سات لاکھ آبادکار ہیں۔انیس سو سڑسٹھ سے اکیانوے تک جتنی یہودی بستیاں اس زمین پر تعمیر کی گئیں۔ان سے دوگنی گزشتہ چونتیس برس میں ابھر آئی ہیں۔اس پورے خطے کی شکل تیزی سے بدل رہی ہے۔فلسطینیوں کی زمینوں میں سے دورویہ باڑھ والی سڑکیں گذار کے انھیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔کئی آبادکار بستیاں قصبوں کا روپ دھار چکی ہیں۔

ان بستیوں کی تعمیر یا فلسطینوں کی املاک بلڈوز کرنے کے کام سے پیدا ہونے والا ملبہ فلسطینیوں کی بچھی کھچی زمینوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔زمین کا مالک خصوصی اجازت نامے کے بغیر اپنے ہی کھیت میں قدم نہیں رکھ سکتا۔اکثر یہ اجازت نامہ سال میں ایک بار تب جاری ہوتا ہے جب بوائی یا کٹائی کا موسم گذر جائے۔ بڑی بڑی شاہراہوں کے اطراف جو باغات یا کھیت ہیں ان میں فلسطینی کسانوں کو سیکیورٹی خدشات کے سبب داخلے کی قطعاً اجازت نہیں۔

گزشتہ ہفتے میں رملہ کے قریب المغیر گاؤں کی ملکیت زیتون کے تین ہزار درخت اسرائیلی فوج نے یہ کہہ کر کاٹ دیے کہ ان درختوں کی آڑ لے کر سامنے کی یہودی بستی پر حملہ ہو سکتا ہے۔

 اسرائیلی فوج اور پولیس کے سائے میں مسلح یہودی آبادکار جس بستی ، قصبے ، کھیت اور باغ میں جب چاہیں گھس سکتے ہیں ، سامان اور فصل لوٹ سکتے ہیں اور آگ بھی لگا سکتے ہیں۔کسی فلسطینی کسان کو قتل کر دیں تو گرفتاری کے بعد ہفتے بھر میں ضمانت ہو جاتی ہے۔تاہم کوئی فلسطینی پتھر اٹھالے تو اسے خصوصی قانون کے تحت چھ ماہ بنا فردِ جرم جیل میں رکھا جا سکتا ہے اور چھ ماہ کی اس مدت میں عدالتیں توسیع کا بھی اختیار رکھتی ہیں۔یعنی قانون کے انجیر پتے ( فگ لیف ) کی آڑ میں کوئی بھی فلسطینی بچہ ، مرد ، عورت ، ضعیف غیر معینہ مدت تک قید میں رکھا جا سکتا ہے۔

جون انیس سو سڑسٹھ میں جب صرف چھ دن کی لڑائی میں گولان ، مغربی کنارہ ، غزہ اور جزیرہ نما سینا اسرائیل کے ہاتھ آ گیا تو اسے خدائی اشارہ سمجھا گیا کہ یہ وہ زمین ہے جسے معجزاتی طور پر بنی اسرائیل کو دوبارہ لوٹا دیا گیا ہے۔

یہ عقیدہ اتنا راسخ ہوتا چلا گیا کہ جب نومبر انیس سو چھیانوے میں گولی کا شکار ہونے والے وزیرِ اعظم ایتزاک رابین کے قاتل یگال آمر سے اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسی شن بیت نے پوچھ گچھ شروع کی تو یگال نے سوال و جواب سے پہلے وائن طلب کی تاکہ وہ یہودی امت کو راہ سے بھٹکا کے فلسطینیوں سے امن معاہدہ کر کے خدائی احکامات سے بغاوت کرنے والے ( ایتزاک رابین ) کی موت پر شکرانے کا جام بلند کر سکے۔

آج یگال آمر کی طرح سوچنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔انھیں یقین ہے کہ سات اکتوبر دو ہزار تئیس ، جون انیس سو سڑسٹھ کی فتح سے بھی بڑا معجزہ ہے۔خدا کہہ رہا ہے کہ اب جوڈیا سماریا ( غربِ اردن ) کی زمین مکمل خالی کروانے کا وقت ہے۔گزشتہ برس وزیرِ آبادکاری اوریت اسٹورک نے ہیبرون کے نزدیک ایک پہاڑی پر آبادکاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔’’ سات اکتوبر سے پہلے جو ٹریفک لائٹ زرد تھی ، اب سبز ہو چکی ہے ‘‘۔

کوئی بھی نئی بستی بسانے کا مجرب فارمولا کچھ یوں ہے۔چند مسلح آبادکار ایک بڑے قطعِ اراضی پر راتوں رات قابض ہو جاتے ہیں۔ان کا قبضہ اسرائیلی قانون کے مطابق بظاہر غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔چند دنوں بعد کوئی عدالت عارضی طور پر قبضہ گیروں کا حقِ ملکیت مشروط طور پر تسلیم کر لیتی ہے۔اس کے کچھ عرصے بعد محکمہ آبادکاری اس قبضے کو جائز قرار دے دیتا ہے۔یوں نئی بستی سرکاری مالی اعانت کی مستحق بن جاتی ہے۔یعنی اب یہاں بسنا حلال ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انیس سو سڑسٹھ سکتے ہیں ا بادکار ہیں ان

پڑھیں:

نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 

گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن  جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔ 

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔

جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ

یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ  کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان