قانوناً حرام بستیوں کو حلال کرنے کا راستہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
فلسطین میں پہلی یورپی صیہونی آبادکار بستی اٹھارہ سو اسی کے عشرے میں بنی تھی۔تب یورپ سے آنے والے یہ مہمان کمزور تھے اس لیے زمین خریدتے تھے۔پھر یہ نظریہ ایجاد ہوا کہ ہمارا اس دنیا میں اپنا کوئی گھر نہیں لہٰذا فلسطین میں ہمیں اپنی ایک ریاست چاہیے۔یہ فرمائش بھی ستتر برس پہلے زور زبردستی سے پوری ہو گئی۔
آج صیہونی مشرقِ وسطی کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہیں اس لیے کسی قاعدے قانون کو خاطر میں لائے بغیر یہ نعرہ لگا کے قبضہ کر لیتے ہیں کہ تم یہاں سے جتنی جلد ممکن ہو خالی کردو ورنہ اسی خدا تک تم پہنچا دیے جاؤ گے جس نے ہمیں اس زمین کی ملکیت ساڑھے تین ہزار برس پہلے آسمانی صیحفوں میں دی ہے۔دیکھا جائے تو اس خطے میں سب سے بڑی غیر قانونی و غیر اخلاقی آبادکار خود ریاستِ اسرائیل ہے اور اب اس آبادکار مافیا کی قبضہ پالیسی انتہائی متشدد ہو گئی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے پر اٹھاون برس میں ڈھائی سو کے لگ بھگ چھوٹی بڑی جبری بستیاں دراصل وہ پھوڑے ہیں جنھوں نے مقبوضہ فلسطین کے جسدِ خاکی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔بالخصوص سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے ہدف یہ ہے کہ قبضہ گیر طوفانی مسموم ہوا سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کی امید کا آخری شعلہ ہی بجھا دیا جائے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے رابطہ دفتر کے مطابق اس وقت غربِ اردن کی فلسطینی بستیوں اور اراضی پر روزانہ اوسطاً چار مسلح حملے ہو رہے ہیں۔اگرچہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف انیس سو سڑسٹھ میں کیے گئے پورے اسرائیلی قبضہ کو ناجائز قرار دے چکی ہے۔ نیز جنیوا کنونشنز کے تحت کسی بھی مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب اور جغرافیائی ہئیت میں تبدیلی بین الاقوامی جرم ہے مگر اسرائیل کی دلیل یہ ہے کہ جو زمین خدا نے عطا کی اس پر دنیاوی قانون لاگو نہیں ہو سکتا۔
بی بی سی کے ایک سینیر ایڈیٹر جیرمی بووین صحافتی زندگی کا یشتر حصہ مشرقِ وسطی میں گذار چکے ہیں۔انھوں نے حال ہی میں آنکھوں دیکھی کے لیے مقبوضہ علاقے میں چند دن گذارے اور آبادکاروں سے ملاقات کی۔جیرمی کے مطابق مغربی کنارے پر ایک مسلح جتھے ’’ ہل ٹاپ یوتھ ‘‘ کے سرخیل مائر سمچا کے بقول ’’ کل ( یعنی اکتوبر دو ہزار تئیس ) سے آج تک حالات بہت بدل گئے ہیں۔اب ہم اس خوف کے بغیر پورے علاقے میں جب اور جہاں چاہیں گھوم سکتے ہیں کہ کوئی ہم پر حملہ کر دے گا۔اگرچہ دوسری جانب ( فلسطینی ) تھوڑی بہت مزاحمت ضرور ہے مگر دشمن آہستہ آہستہ سمجھ چکا ہے کہ اب اس کا یہاں کوئی مستقبل نہیں۔چنانچہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ دنیا اس چھوٹے سے گروہ (فلسطینی ) کے درد میں اب تک کیوں مبتلا ہے ‘‘۔
مائر سمچا کا اعتماد یونہی نہیں ہے۔اس کے نسل کش نظریاتی گرو اقتدار میں ہیں اور ریاست فی الحال ان کی سیاسی مٹھی میں ہے۔چنانچہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اب ایسے آبادکاروں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو محض اس لیے نہیں بس رہے کہ زمین سستی ہے بلکہ وہ اپنے تئیں ایک خدائی مشن پورا کر رہے ہیں۔
اس وقت مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں سات لاکھ آبادکار ہیں۔انیس سو سڑسٹھ سے اکیانوے تک جتنی یہودی بستیاں اس زمین پر تعمیر کی گئیں۔ان سے دوگنی گزشتہ چونتیس برس میں ابھر آئی ہیں۔اس پورے خطے کی شکل تیزی سے بدل رہی ہے۔فلسطینیوں کی زمینوں میں سے دورویہ باڑھ والی سڑکیں گذار کے انھیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔کئی آبادکار بستیاں قصبوں کا روپ دھار چکی ہیں۔
ان بستیوں کی تعمیر یا فلسطینوں کی املاک بلڈوز کرنے کے کام سے پیدا ہونے والا ملبہ فلسطینیوں کی بچھی کھچی زمینوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔زمین کا مالک خصوصی اجازت نامے کے بغیر اپنے ہی کھیت میں قدم نہیں رکھ سکتا۔اکثر یہ اجازت نامہ سال میں ایک بار تب جاری ہوتا ہے جب بوائی یا کٹائی کا موسم گذر جائے۔ بڑی بڑی شاہراہوں کے اطراف جو باغات یا کھیت ہیں ان میں فلسطینی کسانوں کو سیکیورٹی خدشات کے سبب داخلے کی قطعاً اجازت نہیں۔
گزشتہ ہفتے میں رملہ کے قریب المغیر گاؤں کی ملکیت زیتون کے تین ہزار درخت اسرائیلی فوج نے یہ کہہ کر کاٹ دیے کہ ان درختوں کی آڑ لے کر سامنے کی یہودی بستی پر حملہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج اور پولیس کے سائے میں مسلح یہودی آبادکار جس بستی ، قصبے ، کھیت اور باغ میں جب چاہیں گھس سکتے ہیں ، سامان اور فصل لوٹ سکتے ہیں اور آگ بھی لگا سکتے ہیں۔کسی فلسطینی کسان کو قتل کر دیں تو گرفتاری کے بعد ہفتے بھر میں ضمانت ہو جاتی ہے۔تاہم کوئی فلسطینی پتھر اٹھالے تو اسے خصوصی قانون کے تحت چھ ماہ بنا فردِ جرم جیل میں رکھا جا سکتا ہے اور چھ ماہ کی اس مدت میں عدالتیں توسیع کا بھی اختیار رکھتی ہیں۔یعنی قانون کے انجیر پتے ( فگ لیف ) کی آڑ میں کوئی بھی فلسطینی بچہ ، مرد ، عورت ، ضعیف غیر معینہ مدت تک قید میں رکھا جا سکتا ہے۔
جون انیس سو سڑسٹھ میں جب صرف چھ دن کی لڑائی میں گولان ، مغربی کنارہ ، غزہ اور جزیرہ نما سینا اسرائیل کے ہاتھ آ گیا تو اسے خدائی اشارہ سمجھا گیا کہ یہ وہ زمین ہے جسے معجزاتی طور پر بنی اسرائیل کو دوبارہ لوٹا دیا گیا ہے۔
یہ عقیدہ اتنا راسخ ہوتا چلا گیا کہ جب نومبر انیس سو چھیانوے میں گولی کا شکار ہونے والے وزیرِ اعظم ایتزاک رابین کے قاتل یگال آمر سے اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسی شن بیت نے پوچھ گچھ شروع کی تو یگال نے سوال و جواب سے پہلے وائن طلب کی تاکہ وہ یہودی امت کو راہ سے بھٹکا کے فلسطینیوں سے امن معاہدہ کر کے خدائی احکامات سے بغاوت کرنے والے ( ایتزاک رابین ) کی موت پر شکرانے کا جام بلند کر سکے۔
آج یگال آمر کی طرح سوچنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔انھیں یقین ہے کہ سات اکتوبر دو ہزار تئیس ، جون انیس سو سڑسٹھ کی فتح سے بھی بڑا معجزہ ہے۔خدا کہہ رہا ہے کہ اب جوڈیا سماریا ( غربِ اردن ) کی زمین مکمل خالی کروانے کا وقت ہے۔گزشتہ برس وزیرِ آبادکاری اوریت اسٹورک نے ہیبرون کے نزدیک ایک پہاڑی پر آبادکاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔’’ سات اکتوبر سے پہلے جو ٹریفک لائٹ زرد تھی ، اب سبز ہو چکی ہے ‘‘۔
کوئی بھی نئی بستی بسانے کا مجرب فارمولا کچھ یوں ہے۔چند مسلح آبادکار ایک بڑے قطعِ اراضی پر راتوں رات قابض ہو جاتے ہیں۔ان کا قبضہ اسرائیلی قانون کے مطابق بظاہر غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔چند دنوں بعد کوئی عدالت عارضی طور پر قبضہ گیروں کا حقِ ملکیت مشروط طور پر تسلیم کر لیتی ہے۔اس کے کچھ عرصے بعد محکمہ آبادکاری اس قبضے کو جائز قرار دے دیتا ہے۔یوں نئی بستی سرکاری مالی اعانت کی مستحق بن جاتی ہے۔یعنی اب یہاں بسنا حلال ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انیس سو سڑسٹھ سکتے ہیں ا بادکار ہیں ان
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔