انٹارکٹکا میں تیز رفتار ماحولیاتی تبدیلیاں، پوری دنیا پر اثرات مرتب ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ برف سے ڈھکا ہوا براعظم انٹارکٹکا اور اس کے گرد واقع جنوبی سمندر تیز اور اچانک تبدیلیوں کا شکار ہیں، جن کے اثرات نسلوں تک پوری دنیا پر پڑیں گے۔
تحقیق کے مطابق 2014 کے بعد سے سمندری برف تیزی سے کم ہو رہی ہے، اب اس کی شرح کمی آرکٹک کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ برف پگھلنے سے سمندری لہریں گلیشیئرز کو مزید نقصان پہنچا رہی ہیں جبکہ شاہی پینگوئن سمیت کئی انواع کے جانوروں کی بقا کو خطرات لاحق ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش، گلیشیئرز پھٹنے کا امکان، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
برف کے تیز پگھلاؤ نے گہرے سمندری کرنٹس کو بھی سست کر دیا ہے، جو زمین کے درجہ حرارت اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے توازن کے لیے اہم ہیں۔ ویسٹ انٹارکٹک آئس شیٹ کے پگھلنے سے آئندہ صدیوں میں عالمی سطح پر سمندر کی سطح 5 میٹر تک بلند ہو سکتی ہے۔
دنیا بھر میں قریباً 75 کروڑ لوگ ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں، جو براہِ راست اس عمل سے متاثر ہوں گے۔
مزید پڑھیں: تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز گلگت بلتستان کو کس طرح نقصان پہنچا رہے ہیں؟
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں بنیادی طور پر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا نتیجہ ہیں۔ اگر فوری طور پر اخراج کو محدود نہ کیا گیا تو ان تبدیلیوں کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق انٹارکٹکا کی یہ صورتحال پوری دنیا کے موسم، سمندری حیات اور انسانی بستیوں پر گہرے اور ناقابلِ واپسی اثرات ڈالے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
براعظم انٹارکٹکا سمندری برف شاہی پینگوئن گلیشیئرز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: براعظم انٹارکٹکا شاہی پینگوئن گلیشیئرز
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔