ذات سےباہر شادی جرم بن گئی، گاؤں بدردلت نوجوان واپسی پر قتل
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع گوالیار کے گاؤں ہرسی میں 25 سالہ دلت نوجوان، جسے برادری سے باہر شادی کرنے کے بعد گاؤں چھوڑنا پڑا تھا، واپسی پر سسرالیوں سمیت دیگر افراد کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بن کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ 19 اگست کو پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں:
پولیس نے بتایا کہ اتوار کے روز تشدد سے زخمی ہوکر دم توڑنے والے اوم پرکاش باتھم نامی نوجوان کے قتل کے الزام میں 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جن میں اس کی اہلیہ کے رشتہ دار بھی شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، اوم پرکاش باتھم نے رواں سال جنوری میں شیو پانی جھا سے شادی کی تھی، جو اس کے خاندان کی مرضی کے خلاف تھی، شادی کے بعد ہرسی پنچایت نے دوسری ذات سے ازدواجی تعلق قائم کرنے پر باتھم پر 51 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا اور گاؤں کے لوگوں کو اس کے خاندان کا بائیکاٹ کرنے کا حکم دیا۔
مزید پڑھیں:
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واضح نہیں کہ اوم پرکاش نے جرمانہ ادا کیا یا نہیں، تاہم جوڑا گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہوگیا، پولیس کے مطابق، 19 اگست کو گاؤں واپسی کے فوراً بعد اوم پرکاش پر حملہ کیا گیا، حملے کی قیادت مبینہ طور پر شیو پانی جھا کے والد، دوارکا جھا نے کی، جو واقعے کے بعد دیگر ملزمان کے ہمراہ مفرور ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ازدواجی تعلق اوم پرکاش بھارتی ریاست پنچایت تشدد دلت گوالیار مدھیہ پردیش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ازدواجی تعلق اوم پرکاش بھارتی ریاست پنچایت دلت مدھیہ پردیش اوم پرکاش کے مطابق
پڑھیں:
اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر چار تارکین وطن کے قتل کا الزام ہے جن کی لاشیں ایک جلی ہوئی منی وین سے ملی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان چار میں سے ایک پاکستانی جبکہ تین کا تعلق افغانستان سے تھا۔اطلاعات کے مطابق پولیس کو جنوبی کالابریا کے زرعی علاقے میں ایک گاؤں کے نزدیک پیٹرول پمپ سے جلی ہوئی گاڑی ملی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آتا ہے کہ دو افراد نے باہر سے وین کے دروازے بند کیے اور اندر کوئی مائع شے ڈال کر آگ لگا دی۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مقامی کھیتوں میں کام کی تقسیم اور رہائش کے حوالے سے تارکین وطن میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے تقریباً ایک بجے فائر فائٹرز کو جلتی ہوئی وین کی اطلاع ملی تھی۔آگ بجھانے کے بعد انھوں نے اندر دیکھا تو ایک خوفناک منظر تھا۔ وین میں چار جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں۔رپورٹس کے مطابق بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل شواہد کی بنیاد پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔