سعودی ولی عہد کی ای اسپورٹس ورلڈ کپ 2025 کی اختتامی تقریب میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
سعودی ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے اتوار کی شام ریاض میں منعقدہ ای اسپورٹس ورلڈ کپ 2025 کی شاندار اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر اردن کے ولی عہد شہزادہ حسین بن عبداللہ سمیت دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
ولی عہد نے ٹیم فالکنز کو چیمپیئن شپ ٹرافی پیش کی، جنہیں ای اسپورٹس ورلڈ کپ 2025 کا فاتح قرار دیا گیا۔ ٹیم فالکنز کے چیئرمین مسعد الدوسری نے ولی عہد سے ٹرافی وصول کی۔ ٹیم نے 5,200 پوائنٹس کے ساتھ ایونٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور 70 ملین ڈالرز کے ریکارڈ پرائز پول میں سے 7 ملین ڈالرز کا عظیم انعام اپنے نام کیا۔ 7 ہفتوں پر مشتمل اس چیمپیئن شپ میں ٹیم فالکنز نے 2 ٹورنامنٹس جیتے اور 6 میں ٹاپ 3 پوزیشنز حاصل کیں۔
تقریب میں ہزاروں شائقین اور عالمی ناظرین نے شرکت کی۔ محفل کو براہِ راست پرفارمنسز اور عالمی کھیلوں کے ستاروں کی موجودگی نے مزید یادگار بنا دیا، جن میں مشہور فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو بھی شامل تھے، جنہوں نے فاتح ٹیم کے ساتھ جشن منایا اور ٹرافی کے ساتھ تصاویر بھی کھنچوائیں۔
مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد کا شام میں کشیدگی پر قابو پانے کے اقدامات کا خیرمقدم
سعودی ای اسپورٹس فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ فیصل بن بندر بن سلطان اور ای اسپورٹس ورلڈ کپ فاؤنڈیشن کے سی ای او رالف ریچرٹ نے بھی خطاب کیا۔ ریچرٹ نے مملکت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے ایک منفرد عالمی ایونٹ تخلیق کیا ہے جو مسابقت، جدت اور تفریح کو عالمی سطح پر جوڑتا ہے۔
ایونٹ میں 2 ہزار پروفیشنل کھلاڑیوں نے حصہ لیا جو 100 ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے 200 کلبز سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کھلاڑیوں نے دنیا کی مقبول ترین 25 الیکٹرانک گیمز میں حصہ لیا۔
مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات، خطے میں امن و استحکام پر گفتگو
ای اسپورٹس ورلڈ کپ کا آغاز 2023 میں ولی عہد نے کیا تھا۔ اس کا پہلا ایڈیشن 2024 میں ریاض میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا، جب کہ دوسرا ایڈیشن 2025 میں نئے ریکارڈز اور شاندار معیار کے ساتھ منعقد ہوا۔
اس چیمپیئن شپ میں شاندار کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ٹکٹوں کی فروخت میں 53 فیصد اضافہ، عالمی مواد کے مطالبے میں 40 فیصد اضافہ، بین الاقوامی فروخت میں 64 فیصد اضافہ، 35 زبانوں میں نشریات، 100 سے زائد ممالک میں ترسیل، مجموعی طور پر دنیا بھر سے 750 ملین ناظرین نے ایونٹ کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دیکھا، جس کا ویوئرشپ دورانیہ 350 ملین گھنٹوں سے تجاوز کر گیا۔
مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات، خطے میں امن و استحکام پر گفتگو
اسی دوران بولیوارڈ ریاض سٹی میں 3 ملین سے زائد وزیٹرز نے شرکت کی، جہاں 1,500 سے زائد ثقافتی، سماجی اور تفریحی سرگرمیوں نے ایونٹ کو مزید دلکش بنایا۔ یہ عظیم ایونٹ ریاض کو ای اسپورٹس کا عالمی دارالحکومت بنانے کی طرف ایک اور اہم سنگِ میل ہے، جو مملکت کی وژن، جدت اور قیادت کا عملی ثبوت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ای اسپورٹس ورلڈ کپ 2025 چیئرمین مسعد الدوسری سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان فالکنز کرسٹیانو رونالڈو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیئرمین مسعد الدوسری سعودی ولی عہد فالکنز کرسٹیانو رونالڈو سعودی ولی عہد کے ساتھ
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔