سعودی عرب کا بڑا قدم، عرب دنیا کا سب سے جدید مصنوعی ذہانت ماڈل لانچ
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت کرتے ہوئے ہیومین چیٹ (HUMAIN Chat) نامی ایپلیکیشن کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ یہ ایپ عربی زبان پر مبنی سب سے جدید بڑا لسانی ماڈل (ALLAM 34B) استعمال کرتی ہے اور مکمل طور پر سعودی عرب کے اندرونِ ملک انفراسٹرکچر پر چلتی ہے۔
ہیومین چیٹ کو ویب، آئی او ایس اور اینڈرائیڈ پلیٹ فارمز پر سعودی عرب میں عوام کے لیے دستیاب کر دیا گیا ہے، جبکہ جلد ہی اس کی علاقائی اور عالمی سطح پر توسیع کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ ایپ نہ صرف عربی بلکہ انگریزی میں بھی روانی سے بات چیت کر سکتی ہے، صارف دورانِ گفتگو زبان تبدیل کر سکتا ہے، مختلف عربی لہجوں میں آواز کی ان پٹ دے سکتا ہے اور سرچ انجن سے منسلک حقیقی وقت میں جواب حاصل کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ہیومن چیٹ: سعودی عرب میں تیار نیا مقامی مصنوعی ذہانت ماڈل لانچ کرنے کا اعلان
ہیومین چیٹ کو تیار کرنے کے لیے 8 پیٹا بائٹس سے زائد عربی ڈیٹا پر تربیت دی گئی، جو اب تک کی سب سے بڑی عربی ڈیٹاسیٹ ہے۔ اس کام میں 600 سے زیادہ ماہرین اور 250 ایویلیو ایٹرز نے حصہ لیا، جن میں سے 35 افراد پی ایچ ڈی ڈگری رکھتے ہیں۔
ہیومین کمپنی، جو مئی 2025 میں قائم کی گئی تھی، سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کی ملکیت ہے اور اس کا بورڈ آف ڈائریکٹرز ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں کام کرتا ہے۔
کمپنی کا وژن ہے کہ سعودی عرب نہ صرف اپنی قومی ضروریات کے لیے بلکہ عالمی سطح پر بھی جدید ترین مصنوعی ذہانت کے حل فراہم کرے۔ ایمیزون ویب سروسز، این ویڈیا، کوالکوم، سسکو، اے ایم ڈی اور دیگر بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری اس منصوبے کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: گوگل کا مصنوعی ذہانت کا ماڈل انٹرنیشنل میتھمیٹیکل اولمپیاڈ میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب
ہیومین کے سی ای او طارق امین نے اسے سعودی عرب کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایپ عربی زبان اور تہذیب کو ڈیجیٹل دنیا میں حقیقی نمائندگی فراہم کرے گی۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر کے 40 کروڑ سے زائد عربی بولنے والے اور 2 ارب مسلمان اس ایپ سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جو پہلی بار ان کی زبان اور ثقافت کو عالمی سطح پر ڈیجیٹل شناخت فراہم کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ALLAM 34B HUMAIN Chat سعودی عرب مصنوعی ذہانت ماڈل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت ماڈل مصنوعی ذہانت کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔