ریاض میں سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے زیر اہتمام 4 روزہ تربیتی ورکشاپ
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
ریاض میں سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے زیر اہتمام 4 روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے صحافیوں نے بھرپور شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا پہلا مقامی اے آئی چیٹ بوٹ لانچ کردیا گیا
ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کو جدید صحافتی رجحانات اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ تربیتی سیشنز میں خصوصی طور پر صحافت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوے کردار اور فیکٹ چیکنگ کے جدید طریقوں پر روشنی ڈالی گئی تاکہ خبریں زیادہ معتبر اور مستند انداز میں پیش کی جا سکیں۔
شرکا نے زور دیا کہ تیزی سے ڈیجیٹلائز ہوتی دنیا میں صحافت کو نئی تکنیکوں کے ساتھ مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب کا آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم
ورکشاپ کے شرکا نے سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی ورکشاپس نہ صرف صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے میڈیا کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسی بی اے ریاض سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی سعودی عرب سعودیہ میں میڈیا ورکشاپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسی بی اے ریاض سعودیہ میں میڈیا ورکشاپ
پڑھیں:
’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
بھارت میں مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
اس احتجاج کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی کر رہی ہے، جو ابتدا میں بھارت کے چیف جسٹس کے ایک طنزیہ ریمارکس کے جواب میں وجود میں آئی تھی۔ بعد ازاں یہ تحریک نیٹ پرچہ لیک، سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے تک پھیل گئی۔
گزشتہ ایک ماہ سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دینے والے مظاہرین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جنریشن زیڈ میمز، انسٹاگرام ریلز، وائرل ٹرینڈز، بالی ووڈ، کے-پاپ اور آن لائن کلچر کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت اور دنیا تک پہنچا رہی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ آخر وہ کون سے ٹرینڈز ہیں جنہوں نے اس احتجاج کو سوشل میڈیا پر دیگر تحریکوں سے منفرد بنا دیا ہے۔
جین زی کا منفرد احتجاجی انداز:
گیٹ ریڈی ود می ٹرینڈ:
احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر ’گیٹ ریڈی وِد می‘ کی ویڈیوز بھی نمایاں ٹرینڈ بن کر سامنے آئی ہیں۔
عام طور پر یہ فارمیٹ میک اپ، اسکن کیئر یا کسی تقریب کی تیاری دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس بار نوجوان مظاہرین نے اسے احتجاجی انداز میں اپنایا ہے۔
ویڈیوز کا آغاز عموماً اس کیپشن سے ہوتا ہے کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے احتجاج میں شریک ہونے کیلئے میرے ساتھ تیار ہوں‘‘، جس کے بعد احتجاجی بینرز تیار کرنا، پانی کی بوتلیں، دیگر ضروری سامان پیک کرنا، اور دوستوں کے ساتھ احتجاجی مقام کی جانب روانگی جیسے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔
View this post on Instagramہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ ٹرینڈ:
سوشل میڈیا پر مقبول ’ہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ‘ ٹرینڈ کو بھی نوجوان مظاہرین نے احتجاجی انداز میں استعمال کیا۔
اس وائرل فارمیٹ میں عام طور پر رومانوی سوالات پوچھے جاتے ہیں، تاہم کانٹینٹ کریئٹرز نے ان سوالات کی جگہ احتجاج، نیٹ پرچہ لیک اور حکومتی اقدامات سے متعلق طنزیہ جملے شامل کر دیے۔
View this post on Instagram
حقیقی زندگی میں ’سب وے سرفرز‘
احتجاج کے دوران پولیس سے بچنے کے مناظر کو بھی جین زی نے مشہور موبائل گیم ’سب وے سرفرز‘ سے تشبیہ دے دیا۔
متعدد انسٹاگرام ریلز میں مظاہرین پولیس سے بچتے اور بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ پس منظر میں گیم کی مشہور موسیقی چل رہی ہوتی ہے۔
یہ انداز خاص طور پر ان نوجوانوں میں مقبول ہوا جو بچپن سے اس موبائل گیم سے واقف تھے۔ یوں احتجاج کی مختصر ویڈیوز صرف مظاہرے کی جھلک تک محدود نہ رہیں بلکہ میمز کی شکل اختیار کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے لگیں۔
View this post on Instagram