Express News:
2026-06-03@06:48:03 GMT

’’ ڈانگ سوٹے‘‘ کی اہمیّت وفضیلت

اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT

آج اکیسویں صدی میں۔ جب کہ ٹیکنالوجی حیرت انگیز انقلاب برپا کرچکی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے ہر چیز کے پیمانے اور معیار تک بدل دیے ہیں۔

علم نے جسمانی طاقت پر قابو پالیا ہے اور قلم نے بظاہر تلوار کو شکست دے دی ہے۔ مگر ان تمام سچائیوں کے باوجود آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ اہمیّت اقتصادی طاقت کے بجائے عسکری قوّت کی ہے، اور آج کے اس جدید ترین دور میں بھی دنیا کا چوہدری وہی ہے جو دیہاتی زبان میں ’’ڈانگ سوٹے‘‘ کا تگڑا ہے یعنی عسکری طاقت میں دوسروں پر برتری رکھتا ہے۔

 چند سال پہلے کی بات ہے، ہمارے قریب سے گزرنے والے دریائے چناب کے کنارے پر واقع ایک گاؤں کا چوہدری غریبوں اور کمزوروں پر ظلم اور زیادتی کیا کرتا تھا۔ غریب اور بے سہارا لوگ مجبوراً اس کے ظلم سہتے رہتے تھے مگر بیچارے بے بس تھے، کچھ کرنہیں سکتے تھے۔

اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ازالے کے لیے اس وقت ان کے پاس کوئی فورم نہیں تھا۔ نہ تو تھانہ پولیس مظلوموں کا ساتھ دیتی تھی اور نہ ہی اُس وقت میڈیا اتنا متحرّک تھا ۔ پنّوں نام کا ایک قصائی اسی گاؤں میں رہتا تھا، دو تین بار جب چوہدری نے اس کے ساتھ زیادتی کی اور بھری مجلس میں اسے گالیاں دیں تو اس نے اپنے چار بیٹوں اور تین بھتیجوں کو بلا کر میٹنگ کی اور ان سے کہا کہ روز روز کی بے عزتی برداشت نہیں ہوتی، تم کچھ غیرت کھاؤ، اور بازوؤں میں طاقت پیدا کرو۔ چنانچہ ان نوجوانوںنے صبح اٹھ کر سرسوں کے تیل کی مالش کے بعد سخت قسم کی ورزش کو اپنا معمول بنالیا۔

ایک سال کی سخت تربیت اور پنوں کی موٹیویشنل تقریروں سے اس کی برادری کے نوجوانوں میں جراّتِ انکار اور بغاوت کے آثار پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ چنانچہ ایک بار جب بھری پنچائیت میں چوہدری نے پنوں کو پھر بے عزّت کیا تو اس کے بیٹے اور بھتیجے ڈانگیں اور سوٹے لے کر آگئے اور چوہدری کو وہیں پیٹ ڈالا۔ گاؤں کے لوگوں نے بڑی مشکل سے چوہدری کو چھڑایا اور اس کے گھر پہنچایا۔ غریب نوجوانوں کے ’’عزّت بچاؤ آپریشن‘‘ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُس روز کے بعد گاؤں کی سیاست یکسر تبدیل ہوگئی۔ پنّوں قصائی اب چوہدری پنّوں کہلانے لگا۔ اُس گاؤں کے دو چوہدری بن گئے۔ ایک سابقہ چوہدری اور دوسرا چوہدری پنّوں خاں۔

پیسہ تو عربوں کے پاس بے انتہا ہے، بلکہ عرب حکمرانوں کے پاس تو اتنا پیسہ ہے کہ انھیں سمجھ نہیں آتی کہ اس بے تحاشا دولت کو خرچ کیسے کیا جائے۔ وہ دنیا کے ہر خوبصورت ملک میں محلّات خرید چکے ہیں، مہنگے ترین جہاز لے چکے ہیں۔ ان کے پاس لگژری کاریں اتنی ہیں کہ انھیں تعداد بھی یاد نہیں۔ مگر ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل سے ہر وقت خوفزدہ رہتے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم ایک دھمکی لگادے تو عرب حکمرانوں کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔ اس لیے کہ ان کے پاس پیسہ تو ہے مگر ملک کی دفاع کے لیے عسکری طاقت نہیں۔ جدید مسلم دنیا کے سب سے بڑے شاعر اور مفکّر ڈاکٹر محمد اقبال نے درست ہی تو کہا تھا کہ

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

جاپان دنیا کی اقتصادی سپر پاور ہے مگر عالمی معاملات میں اس کی کوئی اہمیّت یا وزن نہیں، جس طرح گاؤں کا چوہدری کسی بھی سیٹھ کو بلا کر اس سے گاؤں کی کسی اصلی یا جعلی فلاحی اسکیم کے لیے فنڈ لے لیتاہے، اس طرح عالمی چوہدری، امریکا جب چاہتا ہے جاپان کی گردن مروڑ کر اس سے رقم اینٹھ لیتا ہے۔

پچھلے دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے تین امیر ترین عرب ملکوں کا دورہ کرکے ان سے اربوں ڈالرز لے لیے تو کچھ لوگوں کراچی کے بہت سے رائٹرز کو الطاف گروپ والا بھتّہ یاد آگیا۔ امریکی صدر ٹرمپ اگر تیسری دنیا کے ملکوں کو ڈکٹیشن دیتا ہے اور وہ اس کی ہدایات مانتے ہیں تو یہ اس لیے نہیں کہ امریکا سب سے امیر ملک ہے بلکہ یہ اس لیے ہے کہ امریکا سب سے طاقتور ملک ہے۔جاپان بھی بڑا امیر ملک ہے۔ کیا جاپان بھارت اور پاکستان کی جنگ بند کراسکتا تھا؟ ہر گز نہیں۔یہ کام صرف وہ ملک کراسکتا ہے جو عسکری طور پر ان دونوں ملکوں سے بہت زیادہ طاقتور ہو۔

پاکستان کے عسکری سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی سطح پر پذیرائی اور عزّت افزائی عالمی میڈیا میں بھی زیرِ بحث رہی ہے۔ میڈیا نے لکھا کہ واشنگٹن میں تو ایک وقت میں کئی ممالک کے سربراہ پہنچے ہوتے ہیں۔ امریکی صدر سے ملاقات کے لیے انھیں انتظار کرنا پڑتا ہے، کئی صدور کو تو کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا ہے، مگر ایک تیسری دنیا کے (قرضوں میں جکڑے ہوئے) ملک کے عسکری سربراہ کو امریکی صدر اس قدر عزّت دیتا ہے کہ اس کے اعزاز میں کھانے کا اہتمام کرتا ہے جب کہ پچھلے پچّاس سالوں میں کسی پاکستانی وزیراعظم یا صدر کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا کہ اسے امریکی صدر نے کھانے پر مدعو کیا ہو۔

ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب بھی وہی ہے۔ پاکستان کی ’’ڈنڈے سوٹے کی طاقت اور برتری‘‘ یعنی جب مئی کی جنگ میں پاکستان نے اپنے سے چھ گنا بڑے ملک کو پچھاڑ دیا اور اسے واضح شکست دے دی تو پاکستان کی عسکری طاقت کی پوری دنیا میں دھاک بیٹھ گئی۔ دنیا کے ہر خطے کے ممالک پاکستان سے مرعوب یا متّاثر ہوئے اوردنیا بھر میں پاکستان کی عزّت میں اضافہ ہوا۔

عرب ملکوں میں کام کرنے والے پاکستانی ورکرز بتاتے ہیں کہ جنگ میں پاکستان کی فتح کے بعد لمبی لمبی گاڑیوں سے اتر کر عرب شیخ اور کفیل ہمارے پاس آکر ہم سے گلے ملتے رہے۔ جنگ میں برتری کی وجہ سے ہماری عزّت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ وہ عرب ممالک جو پاکستانی حکمرانوں کے دوروں پر ناک منہ چڑھاتے تھے کہ یہ ہمیشہ پیسے مانگنے آجاتے ہیں اب پاکستان سے مرعوب ہوکر خود مالی امداد کی آفرز کررہے ہیں۔ کیونکہ کچھ پاکستانی سفارتکاروں کے بقول عرب آپس میں اس طرح کی گفتگو کرتے ہیں کہ ’’پاکستان مالی طور پر تو کمزور ہے مگر یہ ڈانگ سوٹے کا بہت تکڑا ہے۔ اگر اسرائیل بھی کسی ملک سے ڈرتا ہے تو وہ صرف پاکستان ہے‘‘

پاکستان کی ائیرفورس کے بارے میں تو یورپ کے ماہرین اور میڈیا دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان ائیرفورس دنیا کی بہترین ہوائی فوج ہے اور یورپی میڈیا نے تو اسے "King of Skies" یعنی آسمانوں کا بادشاہ قرار دے دیا ہے۔ لہٰذا اس تناظر میں عالمی سطح پر پاکستان کے فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی اہمیّت اور عزت افزائی میں جو اضافہ ہوا ہے وہ قابلِ فہم ہے۔

اس سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ آج بھی سب سے بڑی حقیقت ڈنڈے سوٹے کی (عسکری) طاقت ہے اور دنیا کے بڑے فیصلے آج بھی قوّتِ بازو سے ہی ہوتے ہیں۔ ہمارا حریف ہندوستان مالی طور پر ہم سے شاید دس گنا امیر ہو مگر چار روز جنگ نے عالمی سطح پر اس کا مقام اور رینکنگ مٹّی میں ملا دی ہے جب کہ پاکستان کا نام اور مقام آسمانوں تک پہنچا دیا ہے۔ ہمارے شاعر نے تو بہت پہلے بتا دیا تھا کہ

؎عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

اس وقت دنیا کا چوہدری بلاشبہ امریکا ہی ہے اور ابھی تک عسکری قوت میں کوئی ملک اسے چیلنج نہیں کرسکا۔ مگر امریکا اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کی چوہدراہٹ کو اصل خطرہ روس سے نہیں چین سے ہے جو چند دھائیوں بعد امریکا کو چیلنج کر سکتا ہے، لہٰذا دنیا کے اکلوتے چوہدری کو سب سے بڑی تشویش بھی یہی ہے اور اسی کے لیے وہ پیش بندیاں کررہا ہے۔

بھارت سے امریکا کی سرد مہری کی بھی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ امریکا نے بھارت کو چین کے مقابلے کے لیے تیّار کر رکھا تھا مگر ٹرمپ نے دیکھ لیا ہے کہ وہ تو پاکستان کے سامنے نہیں ٹھہر سکا، چین کے سامنے کیا ٹھہرے گا۔

پاک فضائیہ کی واضح برتری اور ہمارے غیر معمولی عسکری صلاحیّت نے بھی پاکستان کو امریکی صدر کا ڈارلنگ بنادیا ہے، اسی برتری نے ہمارے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے دروازے کھول دیے ہیں اور اسی کانتیجہ ہے کہ آج بھارت میں Saner voices اٹھنا شروع ہوچکی ہیں اور ایسے معقول لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو مودی کو سمجھا رہے ہیں کہ ’’پاکستان سے پنگا لینے کی کیا ضرورت تھی اور کیا ہم اچھے ہمسائیوں کی طرح نہیں رہ سکتے؟‘‘ پاکستان کو اپنی موجودہ عسکری صلاحیّت اور برتری برقرار رکھنا ہوگی تاکہ مذموم اور تشویشناک عزائم رکھنے والے ہمسائے ہمارے بارے میں برے خواب دیکھنا بھی چھوڑ دیں اور بالآخر اس طرح رہنا شروع کردیں جس طرح جرمنی اور فرانس رہ رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی صدر پاکستان کی کا چوہدری دنیا کے ہے کہ ا کے لیے اہمی ت اور اس ہیں کہ ہے اور کے پاس

پڑھیں:

99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی

بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔

193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔

اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔

81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔

خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.

Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…

— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 2, 2026

اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے