کوئی پاپولر ہو یا ہینڈ سم اسے قانون کا سامنا کرنا پڑ ے گا، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی پاپولر ہو یا ہینڈ سم اسے قانون کا سامنا کرنا پڑ ے گا۔
وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ تحریک اںصاف کا کام ہی انتشاری سیاست کو ہوا دینا ہے، 9 مئی کے عدالتی فیصلوں پر تحریک انصاف واویلا کررہی ہے، بانی پی ٹی آئی کے مشورے سے ہی 9 مئی کی منصوبہ بندی کی گئی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ 9 مئی کو شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی، مظاہرین نے دفاعی تنصیاب پر حملے کیے، نومئی کو جو کچھ ہوا، اُس کے شواہد موجود ہیں، عدالتوں نے مجرموں کو سزائیں دیں، تاریخ میں پہلی بار کسی سیاسی جماعت سے نو مئی جیسا انتشاری سانحہ کیا۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ علیمہ خان کو یاد نہیں انہوں نے بیٹوں کو کس طرح بیرون ملک بھگایا؟ آپ لوگ ہی کہتے تھے دو نہیں ایک پاکستان کیا، کیا عمران خان کے بھانجوں کے لیے الگ قانون ہے ۔
طلال چوہدری نے کہا کہ اداروں کے اندر سے سہولت کاری ختم ہوتے ہی انصاف ہوتا نظر آیا، چاہیے کوئی پاپولر ہو یا ہینڈ سم اسے قانون کا سامنا کرنا پڑ ے گا، پاکستان میں احتجاج کی اجازت ہے بغاوت کی نہیں، تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر ملک دشمنی کی۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طلال چوہدری نے کہا
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب