سپریم کورٹ: مختلف نوعیت کے کیسز میں اہم فیصلے اور ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
سپریم کورٹ میں آج مختلف نوعیت کے مقدمات کی سماعت ہوئی جن میں زرعی زمین تنازعہ، منشیات سمگلنگ، ریپ، مالی فراڈ اور جعلی ڈگری سے متعلق کیسز شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ نے آئس اسمگلنگ کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کردی
عدالت نے بعض مقدمات میں ضمانتیں منظور کیں جبکہ بعض میں سخت ریمارکس کے بعد درخواستیں مسترد کردیں۔
زرعی زمین تنازع میں ضمانت بعد از گرفتاریسپریم کورٹ نے زرعی زمین تنازع میں ملوث ملزم عبدالحمید کی دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔
جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
مدعی کے وکیل کے مطابق ملزم نے جعل سازی سے 16 کروڑ روپے کی پراپرٹی صرف 85 لاکھ 70 ہزار روپے میں اپنے نام کروائی جبکہ جعلی دستاویزات بھی تیار کیے۔
ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فرانزک رپورٹ سے ثابت ہوا ہے کہ مدعی کے دستخط اور انگوٹھا اصل ہیں۔ عدالت نے ٹرائل زیر سماعت ہونے کے باعث ضمانت کو ملزم کا حق قرار دیا۔
منشیات اسمگلنگ کیس میں ضمانت مستردسپریم کورٹ نے منشیات کے ملزم فیاض حسین کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
وکیل اے این ایف کے مطابق ملزم سے 10 کلو ہیروئین اور ایک ڈرون برآمد ہوا جبکہ اس کام میں پنجاب پولیس کے اہلکار بھی شریک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں ملزم کو کیوں بری کیا؟
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ آج کل ڈرون کے ذریعے منشیات انڈیا کی سرحد میں گرائی جاتی ہیں اور اس دھندے میں بڑے بااثر لوگ ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آج ملزم کو ضمانت دی گئی تو یہ مفرور ہو جائے گا۔
ریپ کیس کے ملزم کی ضمانت منظورسپریم کورٹ نے ریپ کے ملزم شکیل کی دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔
جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال اٹھایا کہ ڈیڑھ سال سے ٹرائل کیوں نہیں شروع ہوسکا؟ سرکاری وکیل کے مطابق ملزم نے 18 سالہ لڑکی سے دو بار ریپ کیا،
تاہم عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل میں تاخیر کے باعث ضمانت دی جارہی ہے۔
مالی فراڈ کیس میں ضمانت مستردسپریم کورٹ نے 67 لاکھ روپے کے فراڈ میں ملوث ملزم راشد حنیف کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
مدعی کے وکیل کے مطابق ملزم نے رقم ہتھیانے کے بعد ڈس آنر شدہ چیک دیے۔
یہ بھی پڑھیں:نیب کیس میں سزا پوری کرنے والا ملزم سپریم کورٹ سے بری
ملزم کے وکیل نے کہا کہ ان کا مؤکل رقم واپس دینے کو تیار ہے، تاہم جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ “قانون کا مذاق نہ بنایا جائے، پہلے ملزم سرنڈر کرے اور تحقیقات مکمل کرائے۔”
جعلی ڈگری کیس میں خیبر پختونخواہ حکومت سے وضاحت طلبسپریم کورٹ نے استاد صفت اللہ کی جعلی ڈگری سے متعلق کیس میں خیبر پختونخواہ حکومت کو مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ نوکری دینے سے پہلے ڈگری کی تصدیق کیوں نہیں کی گئی؟
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ صفت اللہ کی پیش کردہ ڈگری غیر رجسٹرڈ مدرسے کی تھی جبکہ بعد میں اس نے دوسرا کاغذ بھی جمع کرایا۔
عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2019 سے اب تک حکومت نے کوئی واضح قدم نہیں اٹھایا۔ کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جعلی ڈگری زرعی اراضی تنازع سپریم کورٹ منشیات اسمگلنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جعلی ڈگری سپریم کورٹ منشیات اسمگلنگ کے مطابق ملزم سپریم کورٹ نے کی درخواست جعلی ڈگری عدالت نے کیس میں کے وکیل کے ملزم
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب