جب تک پیپلز پارٹی ہے سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کی قرارداد پاس نہیں کر سکتی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
کراچی:
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ جب تک پیپلز پارٹی ہے سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کی قرارداد پاس نہیں کر سکتی۔
شرجیل میمن جام صادق برج پر پہنچے، جہاں انہوں نے یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انجنیئرز، کنسلٹنٹس اور دیگر حکام نے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو منصوبے کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی جب کہ سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، یلو لائن بی آر ٹی کے پی ڈی ضمیر عباسی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ یلو لائن بی آر ٹی کا کوریڈور ہے، اس کے ساتھ جام صادق برج ہے۔ ٹائم سے پہلے یہ پل مکمل ہو گا۔ سائیکل اور پیدل چلنے والوں کا ٹریک بھی بنایا ہے۔ اس کو مکمل کرنے کے بعد پرانے جام صادق پل کو گرا کر نیا بنایا جائے گا ۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے ٹریفک کی روانی میں بہتر مدد ملے گی ۔
انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی پر بھی فوکس ہے، اس کو بھی جلد سے جلد مکمل کرنا ہے ۔ یہ پروجیکٹ ورلڈ بینک کے تعاون سے ہو رہا ہے ۔ اگلے ماہ ڈبل ڈیکر بسیں اور ای وی بسیں بھی آ رہی ہیں ۔ اسی طرح پنک اسکوٹر بھی اگلے ماہ مفت دیے جائیں گے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو سندھ کے مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں، لوگوں کو چھت فراہم کر رہے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا جا رہا ہے ۔ یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ ہے۔
سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کابینہ کی تبدیلی کوئی بری بات نہیں ہے۔ وزیراعلی سندھ کی صوابدید ہے کہ وہ کابینہ تبدیل کرسکتے ہیں۔ نئے صوبوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبےمتعلقہ اسمبلیوں کی مرضی کےبغیرنہیں بن سکتے اور جب تک پیپلزپارٹی ہے، سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کی قرارداد پاس نہیں کرسکتی۔
پنجاب کو سیلاب میں مدد چاہیے تو سندھ حاضر ہے
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے اصل مسائل سندھ حکومت حل کررہی ہے۔ پنجاب میں سیلاب کے بعد صورتحال خراب ہے۔پنجاب کو جو بھی مدد چاہیے سندھ حکومت حاضر ہے۔ اگر سندھ میں یہ پانی آیا تو اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں ۔ اس سال سندھ میں لوگوں کے گھر بن چکے ہیں، مشکلات کم ہوں گی۔ صدر صاحب سے سیلاب کے سلسلے میں بات ہوئی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی میں بارشوں کے دوران میڈیا ہاؤسز نے مہم چلائی لیکن پنجاب میں ایسی کوئی مہم نظر نہیں آئی۔
کراچی میں جو اسکیمیں ہیں، سندھ کے دیگر شہروں میں نہیں
شرجیل میمن نے بتایا کہ شاہرہ بھٹو کا وہ حصہ جو ابھی کھلا نہیں، وہاں کچھ ایشوز ہیں جو ٹھیک ہو جائیں گے۔ شاہرہ بھٹو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر بنی ہے، اس کا پیسہ سندھ حکومت نے نہیں دیا۔ جنہوں نے یہ پروجیکٹ بنایا ہے، وہی اس کو 25 سال تک سنبھالیں گے۔
ریڈ لائن پروجیکٹس میں ایشوز ہیں یوٹیلٹیز کی تبدیلی میں کافی ٹائم لگ جاتا ہے ۔ کروڑوں روپیہ ہم ان اداروں کو دیتے ہیں ۔ ایسے مسائل سے پروجیکٹس میں تاخیر ہوتی ہے۔ ۔ کراچی میں جو اسکیمیں بنی ہیں، ایسی کوئی ایک بھی سندھ کے دیگر شہروں میں بتا دیں ۔ سندھ کا سب سے زیادہ بجٹ کراچی میں خرچ ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لائن بی آر ٹی شرجیل میمن کراچی میں نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔