قائمہ کمیٹی اجلاس؛ آبی گزر گاہوں پر قبضہ کرنے والوں کو پھانسی دینے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آبی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے والوں کو پھانسی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چیئرپرسن منزہ حسن کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی اور تیاریوں پر سخت تنقید کی گئی۔
چیئرپرسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت بروقت بریفنگ پیپرز فراہم کرنے میں ناکام رہی اور ریجنل کانفرنس میں شرکت کے لیے انہیں وقت پر بریف نہیں دیا گیا۔ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے بھی اپنی وزارت کی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے کمیٹی سے معذرت کی۔
اجلاس کے دوران رکن کمیٹی صاحب زادہ صبغت اللہ نے کہا کہ گلیشیئرز سے متعلق بنائے جانے والے فریم ورک کے بارے میں بھی اراکین کو مناسب معلومات نہیں دی گئیں۔
چیئرپرسن کمیٹی نے خبردار کیا کہ آئندہ سال مون سون 22 فیصد زیادہ شدید ہوگا جبکہ این ڈی ایم اے تو فعال کردار ادا کر رہی ہے مگر پی ڈی ایم ایز کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ منزہ حسن نے کہا کہ لوکل حکومت نہ ہونے کے باعث ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی موجود نہیں، جس سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
ممبر کمیٹی گستاسب خان نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں صرف چیک تقسیم اور فوٹو سیشن کیے جاتے ہیں، اصل میں انفرا اسٹرکچر پر کوئی کام نہیں ہو رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے آنے والے پانی کے خطرے کے باوجود کوئی تیاری نہیں کی گئی۔ اس پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے وضاحت دی کہ یہ بھارت کے ڈیموں کے بھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والا مسئلہ ہے اور اس پر وزارت آبی ذخائر کو بریفنگ دینی چاہیے۔
اجلاس میں رکن اویس جکھڑ نے اپنے ضلع لیہ میں سیلابی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے گھر اجڑ گئے ہیں، مگر این ڈی ایم اے نے لیہ کو متاثرہ اضلاع میں شامل ہی نہیں کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جنوبی پنجاب کو فنڈز نہیں دیے جاتے، بڑے شہروں میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں جب کہ کچے کے علاقے ہر سال ڈوب جاتے ہیں۔ اس پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے ضلع کو متاثرہ علاقوں میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
رکن شائستہ پرویز نے کہا کہ سیلاب سے معیشت تباہ ہو رہی ہے، مگر اصل تباہی ٹمبر مافیا کی وجہ سے ہے جس نے کے پی، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں جنگلات کا صفایا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور مافیا حکومت کی مدد کے بغیر نہیں چل سکتا اور اس پر تحقیقات ہونی چاہییں۔ چیئرپرسن کمیٹی نے بھی اس مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ ہمارے پہاڑ ننگے ہو رہے ہیں جبکہ بھارتی سائیڈ سرسبز ہے۔
اجلاس میں سخت تجاویز بھی سامنے آئیں، رکن کمیٹی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ آبی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے والے اور ایسے این او سی جاری کرنے والوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسا اقدام نہ کرے۔ رکن کمیٹی شازیہ صوبیہ نے نشاندہی کی کہ آج راوی میں پانی بڑھ رہا ہے مگر کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔
شائستہ پرویز نے پارلیمانی کمیٹیوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم صرف کمیٹیاں کھیل رہے ہیں اور میں حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی کمیٹی چھوڑنے کا سوچ رہی ہوں۔ اس پر چیئرپرسن نے کہا کہ کمیٹی تجاویز دے سکتی ہے اور ماضی میں کئی تجاویز پر عمل درآمد ہوا ہے، اب ٹمبر مافیا کے خلاف بھی ہدایات جاری کی جائیں گی۔
اجلاس میں اراکین نے اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کے حل کے لیے صوبوں کو بھی شامل کرنا ہوگا اور کلائمٹ چینج اتھارٹی کو طلب کر کے سخت سوالات کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی اجلاس میں نے کہا کہ رہے ہیں
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔