لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں دریاؤں کی طغیانی سے شدید تباہی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور متعدد لاپتا ہوگئے۔

انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کے مطابق بھارت نے اچانک دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی چھوڑا جس کے بعد سیلابی ریلے کئی دیہات اور بستیاں ڈبو گئے۔

بھارتی آبی جارحیت اور سیاسی ردعمل

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے الزام عائد کیا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بغیر اطلاع پانی چھوڑنے سے لاکھوں شہری متاثر ہوئے ہیں اور پاکستان کو اربوں کے نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

پاک فوج کے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز

آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی جوان 8 اضلاع میں متاثرہ افراد کے انخلا اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

فوجی ہیلی کاپٹرز کی اب تک 26 پروازیں ہوچکی ہیں جبکہ کٹرپور اور دیگر علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

اب تک 96 سکھ برادری کے افراد کو کامیابی سے نکالا گیا ہے۔ تاہم 2 فوجی جوان ریلیف آپریشن کے دوران شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔

دریاؤں میں غیر معمولی صورتحال

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے چناب، راوی اور ستلج میں انتہائی بلند سطح کا سیلاب جاری ہے۔

دریائے راوی میں پانی کی سطح 1955 کے بعد سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ستلج کے قریب قصور میں بجلی کے آٹھ فیڈر معطل ہونے سے 40 دیہات اندھیرے میں ڈوب گئے۔

متاثرہ آبادی اور حکومتی اقدامات

پنجاب حکومت کے مطابق اب تک 6 لاکھ سے زائد افراد متاثر اور 210,000 افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر 263 ریلیف کیمپ اور 161 میڈیکل کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں ضلعی انتظامیہ، فوج اور ریسکیو ادارے شریک ہیں۔

وزیراعظم اور صدر کے احکامات

وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ہدایت کی ہے کہ شہری علاقوں میں ممکنہ اربن فلڈنگ سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی ہدایت کی ہے کہ سندھ میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر فوری تیاری کی جائے۔

شدید بارشیں اور خطرناک صورتحال

محکمہ موسمیات کے مطابق سیالکوٹ میں 49 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جہاں 24 گھنٹوں میں 363 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

آئندہ 48 گھنٹے ملتان، مظفرگڑھ اور جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع کے لیے انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری

بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
 سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
 سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان