برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق 2015 کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے سبب اقوام متحدہ کی پابندیوں کو واپس لانے کے لیے فوری بحالی کا طریقہ کار شروع کر دیا ہے، جس سے پابندیاں 30 روز میں دوبارہ نافذ ہوسکتی ہیں اگر سلامتی کونسل اس دوران کوئی نئی قرارداد منظور نہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر پابندیاں یا مذاکرات؟ ٹرمپ کا دوہرا پیغام سامنے آ گیا

بین لاقوامی میڈیا کے مطابق تینوں یورپی ممالک نے یہ قدم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط کے ذریعے اٹھایا ہے جس میں ایران پر سخت عدمِ تعمیل کا الزام عائد کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ تہران کے ہاتھ میں موجود افزودہ یورینیم کا حجم اور اس کی شرح کا کوئی شہری جواز نہیں۔ یورپی ممالک نے اس عمل کو اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اگلے 30 روز تک ایران کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھیں گے تاکہ اگر تہران ٹھوس پیش رفت کرے تو پابندیوں کی بحالی مؤخر کی جا سکے

اس فیصلے کی پس منظر کہانی یہ ہے کہ 2015 میں تجویز کردہ بین الاقوامی معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں نرم کر دی گئی تھیں، تاہم 2018 میں امریکہ کے معاہدے سے باہر نکل جانے اور دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بعد معاملات کشیدہ ہو گئے اور تہران نے جوہری سرگرمیوں میں تیزی لائی۔ یورپی تیسرا فریق اس معاہدے کے شریک تھے اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ ایران نے اپنے وعدے پوری طرح پورے نہیں کیے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں، جنگ بندی کے بعد پہلا قدم

ایران نے یورپی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس اقدام سے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ جاری مذاکرات اور تفتیشی عمل شدید متاثر ہوں گے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کو اشتعال انگیز اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے مناسب جوابی اقدامات ہوں گے۔ ایرانی حکام نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے دیگر اراکین کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔

امریکی حکومت نے یورپی اقدامات کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وہ E3 کے ساتھ مل کر اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے تعاون کرے گی، البتہ امریکی نمائندے نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ براہِ راست سفارتی راستے کھلا رکھے ہوئے ہے اور وہ ایران کے ساتھ پرامن مذاکرات کے لیے دستیاب ہے۔ عالمی ایٹمی ادارہ اور مغربی حکومتیں ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی غیریقینی نوعیت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں جبکہ ایران بارہا مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی چیف پر ایٹمی تنصیبات کے دورے پر پابندی عائد کر دی

ماہِ اگست میں جنیوا میں یورپی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات بھی ہو چکے ہیں مگر یورپی تاثر یہ رہا کہ تہران نے قابلِ قبول، ٹھوس تجاویز نہیں دیں۔ اگر سلامتی کونسل 30 روز کے اندر صورتِ حال بدلنے کے لیے کوئی متفقہ حل نہ نکال پائی تو 2015 کے تحت اٹھائی گئی پابندیاں مرحلہ وار واپس آ سکتی ہیں، جن میں ہتھیاروں کی منتقلی پر پابندی، افزودہ یورینیم کی پیداوار پر حدود اور مخصوص افراد کے خلاف سفری پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے عالمی سیاسی اور اقتصادی نتائج وسیع پیمانے پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اقوام متحدہ امریکا ایران برطانیہ پابندیاں جرمنی فرانس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکا ایران برطانیہ پابندیاں سلامتی کونسل ایران پر ایران کے کے ساتھ یہ بھی کے لیے

پڑھیں:

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔

مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔

مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی