پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں 500 پوائنٹس اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کی صبح مثبت رجحان غالب رہا اور کاروبار کے ابتدائی اوقات میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 500 پوائنٹس سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 10 بج کر 20 منٹ پر انڈیکس 147,861.38 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا، جو 517.88 پوائنٹس یعنی 0.35 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسٹاک ایکسچینج میں تاریخ رقم، 100 انڈیکس پہلی بار 150,000 کی سطح عبور کرگیا
سرمایہ کاروں کی دلچسپی سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، آئل مارکیٹنگ کمپنیز، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری سیکٹرز میں نمایاں رہی۔
https://Twitter.
بڑی کمپنیوں کے حصص، بشمول اے آر ایل، این آر ایل، حبکو، ماری، پی او ایل، پی پی ایل، ایس ایس جی سی، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک اور نیشنل بینک آف پاکستان مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس میں دباؤ دیکھنے میں آیا تھا، جو فیوچرز رول اوور سرگرمیوں کے باعث منفی میں بند ہوا۔ اسٹاک مارکیٹ میں انڈیکس 150.52 پوائنٹس یعنی 0.10 فیصد کمی کے ساتھ۔ 147,343.50 پوائنٹس پر اختتام پذیر ہوا۔
مزید پڑھیں:اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس میں 600 پوائنٹس کا اضافہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر جمعہ کے روز ایشیائی منڈیوں میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی شیئرز کی ریلی بتائی گئی۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی مہنگائی کے اہم اعداد و شمار پر مرکوز ہیں جو فیڈرل ریزرو کی شرح سود کے حوالے سے مزید اشارے فراہم کریں گے۔
امریکا میں اینویڈیا کے نتائج توقعات سے کم رہے، تاہم کمپنی کے اے آئی انفرااسٹرکچر پر مسلسل اخراجات نے ایس اینڈ پی 500 اور ڈاؤ جونز کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں پر، تیزی کا طوفان مسلسل جاری
ایشیا میں ایم ایس سی آئی کا برانڈ انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا، جب کہ یورپ اور امریکا کے فیوچرز میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔ چین میں ٹیک فوکسڈ اسٹار 50 انڈیکس 2.5 فیصد نیچے آیا۔
تاہم سی ایس آئی 300 انڈیکس میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا اورہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس بھی 0.5 فیصد اوپر گیا۔ جاپان کا نکی انڈیکس 0.4 فیصد گر گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس امریکا ایس ایس جی سی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پی پی ایل ٹیکنالوجی شیئرز حبیب بینک شیئرز کے ایس ای مثبت رجحان مسلم کمرشل بینک نیشنل بینک آف پاکستان وال اسٹریٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس امریکا ایس ایس جی سی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پی پی ایل ٹیکنالوجی شیئرز کے ایس ای نیشنل بینک ا ف پاکستان وال اسٹریٹ
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔