بریڈ پٹ، واکین فینکس اور رونی مارا کی غزہ پر مبنی فلم “دی وائس آف ہند رجب” میں شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
ہالی ووڈ کےنامور اداکار بریڈ پٹ، واکین فینکس، رونی مارا سمیت کئی شخصیات نے غزہ پر مبنی ڈرامہ ’دی وائس آف ہند رجب‘ کے ساتھ بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر شمولیت اختیار کر لی ہے، یہ فلم اس سال کے وینس فلم فیسٹیول میں عالمی سطح پر نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔
ایوارڈ یافتہ ہدایتکار الفونسو کیورون اور جوناتھن گلیزر بھی بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر اس فلم پروجیکٹ میں شامل ہیں، گلیزر نے مارچ 2024 میں اپنے فلم زون آف انٹرسٹ کے لیے آسکر جیتنے کے موقع پر ایک جذباتی تقریر کی تھی، جس میں انہوں نے ہولوکاسٹ پر بنی اپنی فلم کو غزہ کی موجودہ صورتحال سے تشبیہ دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:
کوثربن ہنیہ کی ہدایتکاری میں بننے والی یہ فلم 3 ستمبر کو وینس میں ریڈ کارپٹ پر پیش کی جائے گی اور اس کے بعد ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں دکھائی جائے گی۔
یہ ڈرامہ 6 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کے المناک قتل کے واقعات کو اجاگر کرتا ہے، جسے رواں سال جنوری میں اپنے کزنز، خالہ اور ماموں کے ساتھ کار میں سفر کے دوران اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا۔
فلم میں فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے طبی رضاکاروں کے ساتھ ہند کی گفتگو کی آوازیں شامل کی گئی ہیں، جنہوں نے اسے لائن پر رکھنے کی کوشش کی تاکہ ایمبولینس بھیجی جا سکے۔ انہی کالز کے دوران فائرنگ کی آوازیں بھی ریکارڈ ہوئیں۔ بعدازاں 2 پیرا میڈکس بھی مارے گئے جو امداد کے لیے پہنچے تھے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے جولائی 2024 میں کہا تھا کہ ہند کا قتل جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے، کیونکہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی کو قریب سے ایسے ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا جو صرف اسرائیلی فوج کے پاس موجود ہے۔ ان کے مطابق آڈیو ریکارڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاندان میں سب سے آخر میں زندہ بچی صرف ہند تھی، جو بعد میں ماری گئی۔
مزید پڑھیں:
ہند رجب کا قتل غزہ میں اسرائیلی افواج کے مظالم کی شدت اور ہولناکی کو بے نقاب کرتا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک مقامی طبی حکام کے مطابق 62 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے کیونکہ ہزاروں لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ غزہ اس وقت قحط جیسے حالات کا بھی شکار ہے، جو مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریکارڈ ہوا ہے۔
وینس فلم فیسٹیول میں ’دی وائس آف ہند رجب‘ کی نمائش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اٹلی کے اس شہر میں غزہ کی جنگ کے مستقل خاتمے کے مطالبے پر احتجاج جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی احتجاج اسرائیلی افواج دی وائس آف ہند رجب غزہ فلسطینی قحط وینس فلم فیسٹیول.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اٹلی اسرائیلی افواج دی وائس آف ہند رجب فلسطینی وینس فلم فیسٹیول دی وائس آف ہند رجب فلم فیسٹیول کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔