پشاور میں شدید بارش ، شہریوں کوکشتیوں میں ریسکیو کرنا پڑا
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
پشاور کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش کے بعد سیلابی صورتحال ہے، وارسک روڈ پر ہاؤسنگ سوسائٹی میں پانی داخل ہونے پر شہریوں کو کشتیوں میں ریسکیو کرنا پڑا۔
موسلادھار بارش کے بعد ناصر باغ روڈ اور ملحقہ علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ صدر، جی ٹی روڈ اور گلبہار سمیت مختلف مقامات پر نالے ابل پڑے۔ وارسک روڈ پر ہاؤسنگ سوسائٹی میں پانی داخل ہونے پر شہریوں کو کشتیوں میں ریسکیو کرنا پڑا۔
بارش کے باعث کئی فیڈرز بھی متاثر ہوئے جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
ایک کچے مکان کی چھت گرنے سے بچی جاں بحق جب کہ دوسرے مکان کی دیوار گرنے سے شہری زخمی ہوا۔
بڈھنی نالے میں درمنگی اور پیربالا کے مقام پر سیلابی صورتحال ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق بڈھنی نالے میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے سے نشیبی علاقے متاثر ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب مالاکنڈ میں بٹ خیلہ شہر اور گردونواح میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ برساتی نالے میں کار پھنسنے سے دو افراد زخمی ہوگئے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر سوات ایکسپریس وے بند کردی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں پانی
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا