بیجنگ میں نیا عالمی نظام؟ پیوٹن اور شی کا مشترکہ وژن
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
اس ہفتے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن بیجنگ پہنچ رہے ہیں جہاں دوسری جنگِ عظیم میں ایشیائی محاذ پر فتح کی 80ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
چین کے لیے یہ دن صرف ایک یادگار تقریب نہیں بلکہ اس صدیوں پرانی جدوجہد کی علامت ہے جو اس نے افیون کی جنگوں سے لے کر 1945 میں جاپان کی شکست تک غیر ملکی تسلط کے خلاف لڑی۔
یہ بھی پڑھیں:’تیسری عالمی جنگ شروع ہو چکی‘، دیمیتری ترینن کا تجزیہ
روس کی جانب سے چین کی قربانیوں کو تسلیم کرنا بیجنگ کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
ماضی سے آگے کا سفرپیوٹن کا یہ دورہ محض تاریخ کو یاد کرنے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کی طرف اشارہ بھی ہے۔ روس اور چین دنیا کے سامنے ایک مشترکہ وژن رکھ رہے ہیں کہ مغربی طاقتوں کی بالادستی کے علاوہ بھی ایک راستہ ہے۔
ترقی پذیر دنیا کے لیے یہ امید کا پیغام ہے، جبکہ مغرب کے لیے یہ تنبیہ ہے کہ اس متبادل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یوکرین کی جنگ مرکزی نکتہپیوٹن اور شی کے مذاکرات میں سب سے بڑا موضوع یوکرین کی جنگ ہوگا۔ چین اس تنازعے کے حل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے جو روس کے مفاد میں ہے۔
مغربی ممالک روزانہ کی بنیاد پر کیف کی حمایت میں الجھے ہوئے ہیں، لیکن روس اپنے BRICS اتحادیوں خصوصاً چین کی حمایت چاہتا ہے۔
چین کے پاس عالمی تجارت میں اپنی طاقت کی بدولت یورپی دباؤ کم کرنے کے طریقے موجود ہیں۔
دراصل یوکرین کا مسئلہ صرف مشرقی یورپ کی سرزمین کا جھگڑا نہیں بلکہ نئے عالمی نظام کی بنیاد ہے۔
سلامتی کونسل کو دوبارہ مرکز بناناروس اور چین چاہتے ہیں کہ عالمی سیاست کا مرکز دوبارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہو، جسے مغرب نے حالیہ برسوں میں پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین اور روس کو سلامتی و ترقی کے مشترکہ مفادات کا دفاع کرنا چاہیے، شی جن پنگ
اگر ماسکو اور بیجنگ مل کر اس ادارے کو فعال کرتے ہیں تو یہ کثیرالجہتی دنیا کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ اس عمل میں شامل ہوتا ہے یا نہیں۔
یالٹا کانفرنسابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کیا روس، چین اور امریکا کی کسی سہ ملکی سربراہی ملاقات کا امکان ہے، جیسا کہ 80 سال پہلے یالٹا کانفرنس ہوئی تھی۔ مگر اگر ایسا اجلاس منعقد ہوا تو یہ تاریخ کا ایک نیا موڑ ہوگا۔
گریٹر یوریشیا کا خوابفوری مسائل کے ساتھ ساتھ پیوٹن اور شی کا ایک بڑا ایجنڈا ’گریٹر یوریشیا کا قیام‘ بھی ہے۔ اس منصوبے میں شنگھائی تعاون تنظیم، یوریشین اکنامک یونین اور چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ سب شامل ہیں۔
یہ سب مل کر سلامتی اور معیشت میں ایک ایسا ڈھانچہ تشکیل دے سکتے ہیں جو پہلی بار مغرب کی بجائے خود ایشیا طے کرے گا۔
برابری اور احترام پر مبنی نظامیہ سفر آسان نہیں، ماسکو اور بیجنگ کو طویل مذاکرات کرنا ہوں گے، لیکن موقع حقیقت ہے۔ ایک ایسا عالمی نظام ممکن ہے جو طاقت کے زور پر نہیں بلکہ برابری اور باہمی احترام پر کھڑا ہو۔
اگر ترقی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو آنے والے برسوں میں ’گریٹر یوریشیا‘ حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔
تاریخ لکھنے کا وقتاس ہفتے بیجنگ میں صرف تاریخ یاد نہیں کی جا رہی، بلکہ نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے—اور وہ روسی اور چینی سیاہی سے۔
بشکریہ: رشیا ٹو ڈے
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بیجنگ چین روس نیا عالمی نظام نیو ورلڈ آرڈر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا چین نیا عالمی نظام نیو ورلڈ ا رڈر عالمی نظام نہیں بلکہ اور چین کے لیے
پڑھیں:
اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور بات چیت کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke today with Kuwait’s Foreign Minister Sheikh Jarrah Jaber Al-Ahmad Al-Sabah to discuss evolving regional and international developments.
FM Sheikh Jarrah appreciated Pakistan’s continued… pic.twitter.com/CBnvw1REKc
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
انہوں نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیاکہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج دیں گی اور مستقبل قریب میں خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔
گفتگو کے دوران پاکستان اور کویت کے درمیان موجود مضبوط برادرانہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسحاق ڈار ٹیلیفونک رابطہ عالمی صورتحال کویتی وزیر خارجہ نائب وزیراعظم وی نیوز