کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، فتنہ الخوارج اور القاعدہ برصغیر کے 5 کارندے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
کراچی ایک بڑی تباہی سے بچ گیا۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور وفاقی حساس ادارے کی بروقت کارروائیوں کے نتیجے میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا جبکہ فتنہ الخوارج اور القاعدہ برصغیر سے تعلق رکھنے والے پانچ شدت پسند گرفتار کر لیے گئے۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق انٹیلی جنس اطلاعات پر کراچی کے مختلف علاقوں منگھوپیر اور کشمیر روڈ — میں کامیاب چھاپے مارے گئے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت اللہ نور، سرفراز، سلیم، جہانزیب اور امداد کے ناموں سے ہوئی ہے۔
ترجمان کے مطابق، تمام گرفتار دہشت گرد پڑوسی ملک سے عسکری تربیت یافتہ ہیں اور کراچی میں دہشتگردی کی منظم منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔ ان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد ہوا ، جسے مزید تحقیقات کے لیے فارنزک لیب بھیج دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، یہ گروہ شہر میں بدامنی پھیلانے اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتا تھا، جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے، اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔
ترجمان سی ٹی ڈی نے اس موقع پر کہا کہ شہر کے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح چوکنا اور سرگرم ہیں۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ دہشتگردی جیسے خطرات کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔