شنگھائی تعاون تنظیم  کا بنیادی مقصد خطے میں اجتماعی سلامتی، تعاون اور ترقی ہے، مگر بھارت نے اجلاس کو پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا پلیٹ فارم بنانے کی ناکام کوشش کی۔

بھارتی میڈیا نے گمراہ کن دعویٰ کرتے ہوئے دہشت گردی کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، حالانکہ دہشت گردی پہلے ہی ایس سی او کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بھارت کی جانب سے اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے پاکستانی وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ خطے کے اصل چیلنج غربت، انتہا پسندی اور معاشی ترقی ہیں۔

پاکستان کا بیانیہ ایس سی او کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے اور الزام تراشی کے بجائے تعاون ہی وقت کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین سمیت رکن ممالک نے بھی اس مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ ایس سی او خطے میں امن، اقتصادی شراکت داری اور روابط پر مرکوز ہے، اسے کسی ملک کے پروپیگنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیا جائے گا۔

مبصرین کے مطابق بھارت خطے میں تعاون کی بجائے تصادم کی راہ اختیار کر رہا ہے، جس سے نہ صرف اس کی عالمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ سفارتی میدان میں اسے بار بار سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔چین میں بھی بھارتی وزیرِاعظم مودی کی پالیسیوں کو تنقید اور ناکامی کا سامنا رہا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا کردار ہمیشہ امن، ترقی اور علاقائی تعاون کے فروغ پر مبنی رہا ہے، جبکہ بھارت مسلسل ایس سی او کے جذبہ تعاون کے برعکس نفرت اور تصادم کو ہوا دے رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایس سی او رہا ہے

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے