ٹرمپ کے ساتھ یوکرین پر ’سمجھوتے‘ طے پا گئے، روسی صدر پیوٹن کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پیر کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے عمومی اجلاس میں کہا کہ اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ الاسکا سمٹ میں یوکرین کے بحران کے حل کے لیے کچھ ’سمجھوتے‘ طے پائے ہیں۔
پیوٹن نے چین کی جانب سے جاری جنگ کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں اور تجاویز کو سراہا۔ انہوں نے کہا:
’اس حوالے سے ہم چین کی ان کوششوں اور تجاویز کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو یوکرین کے بحران کے حل کے لیے دی گئی ہیں۔ میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ روسی اور امریکی صدور کی ملاقات (الاسکا) میں ہونے والے سمجھوتے بھی، مجھے امید ہے، اس مقصد کے حصول میں مددگار ہوں گے۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اگست میں ٹرمپ اور پیوٹن نے الاسکا میں ملاقات کی تھی تاکہ یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ پیوٹن نے کہا کہ انہوں نے اس ملاقات کے نتائج پر چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے گفتگو کی ہے اور وہ اس اجلاس کے دوران دو طرفہ ملاقاتوں میں تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
پیوٹن نے ایک بار پھر ماسکو کا مؤقف دہرایا اور یوکرین کے مغربی اتحادیوں کو بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کے مطابق: ’یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی مغربی کوششیں اس بحران کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ یہ کسی ’حملے‘ کا نتیجہ نہیں بلکہ کیف میں ہونے والی بغاوت کا نتیجہ ہے جسے یوکرین کے مغربی اتحادیوں نے سہارا دیا۔‘
انہوں نے کہا کہ روس اس اصول پر کاربند ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی سلامتی کو دوسرے ملک کی قیمت پر یقینی نہیں بنا سکتا۔ یوکرین کے بحران کی بنیادوں کو درست کرنا اور سلامتی کا توازن قائم کرنا ضروری ہے۔
پیوٹن کے مطابق اقوام متحدہ کے اصول، بشمول ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، آج بھی اہم ہیں۔
الاسکا ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے بھی گفتگو کو ’انتہائی نتیجہ خیز‘ قرار دیا تھا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔ پیوٹن نے بھی کہا کہ ملاقات ’باہمی احترام کے تعمیری ماحول‘ میں ہوئی اور 3 گھنٹے طویل بات چیت کے بعد کچھ غیر واضح مسائل پر پیش رفت ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: یوکرین کے پیوٹن نے انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔