چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

اعلامیے میں پاکستان میں جعفر ایکسپریس اور خضدار جبکہ بھارت کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطین میں فوری اور پائیدار جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور عالمی سطح پر فعال سفارتی کردار پر زور دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایس سی او اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری، تنظیم کی سربراہی روس کے سپرد

اعلامیے کے مطابق سفارتی کوششوں کے نتیجے میں آج پاکستان خطے میں ’ریجنل اسٹیبیلائزر‘ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اجلاس میں ریاستوں کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور عدم مداخلت کو بنیادی اصول قرار دیا گیا۔

افغانستان سے متعلق اعلامیے میں کہا گیا کہ وہاں جامع اور نمائندہ حکومت ہی دیرپا استحکام کا راستہ ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دہرا معیار ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دہشتگردوں کی سرحد پار نقل و حرکت سمیت ہر پہلو کا مؤثر مقابلہ کیا جائے گا اور تمام دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جائے گی۔ مزید کہا گیا کہ افغانستان میں حکومت نسلی اور سیاسی گروہوں کی شمولیت سے تشکیل دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم امن، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی ضامن ہے، صدر زرداری

اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہر قوم کو اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی راستے کے آزادانہ انتخاب کا حق حاصل ہے جبکہ دہشتگردوں کو سیاسی یا کرائے کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔ اس موقع پر ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے تحت باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کے عزم کی بھی توثیق کی گئی۔

ایس سی او 2025 اعلامیے میں ایران پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ حملے ایران کی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ایس سی او پہلگام تیانجن جعفر ایکسپریس چین خضدار سمت شنگھائی تعاون تنظیم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایس سی او پہلگام تیانجن جعفر ایکسپریس چین شنگھائی تعاون تنظیم اعلامیے میں ایس سی او گیا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی