کالا باغ ڈیم ریاست کی ضرورت، ہم اپنا حصہ دینے کے لیے تیار ہیں، وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم ریاست کی ضرورت ہے، اس منصوبے پر اگر کسی کو اعتراضات ہیں تو انہیں دور کیا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے کے سیلاب متاثرین کے لیے 20 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن سمیت صوبے کے متعدد اضلاع شدید متاثر ہوئے، جہاں ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور پاک فوج نے بروقت ریسپانس دیتے ہوئے 6700 سے زائد افراد کو زندہ بچایا۔
پشاور میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بونیر، شانگلہ، سوات، بٹگرام، باجوڑ اور صوابی سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ مختلف حادثات میں 411 افراد جاں بحق اور 132 زخمی ہوئے جبکہ 12 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق مجموعی طور پر 12 ہزار 500 سے زائد خاندان متاثر ہوئے، 571 گھر مکمل طور پر اور 1983 گھر جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ 1996 دکانوں، 413 سڑکوں، 72 پلوں، 589 سرکاری عمارتوں اور بجلی کے 99 فیڈرز کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں صوبائی اداروں کے ساتھ پاک فوج کے 3 یونٹس اور 5 ہیلی کاپٹرز بھی شامل ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں 2500 ریسکیو اہلکار اور 1000 رضا کار تعینات کئے گئے جبکہ فوری بحالی کیلئے سی اینڈ ڈبلیو کی 200 ہیوی مشینری بھی لگائی گئی۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اب تک ڈھائی لاکھ افراد کو تیار کھانا فراہم کیا گیا، 140 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان متاثرہ اضلاع میں پہنچایا گیا، 15 واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کئے گئے جبکہ چار موبائل اسپتال بھی قائم کئے گئے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ معاوضے کی شرح دوگنی کردی گئی ہے۔ جاں بحق افراد کے ورثا کو فی کس 20 لاکھ روپے، زخمیوں کو 5 لاکھ روپے، مکمل تباہ شدہ گھروں کو 10 لاکھ، جزوی طور پر متاثرہ گھروں کو تین لاکھ اور پہلی بار دکانوں کے نقصان پر پانچ لاکھ روپے فی کس معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ فوڈ اسٹیمپ کی مد میں 15 ہزار روپے فی خاندان دیے جارہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق اب تک 411 اموات میں سے 352 کے لواحقین کو 704 ملین روپے، 60 زخمیوں کو 30 ملین روپے، 367 متاثرہ گھروں کے مالکان کو 367 ملین روپے اور 253 دکانوں کے مالکان کو 126 ملین روپے ادا کئے جا چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام متاثرین کو اگلے ایک 2 روز میں معاوضوں کی مکمل ادائیگی کر دی جائے گی۔ تباہ شدہ تمام 99 بجلی فیڈرز بحال کر دیے گئے ہیں، 406 متاثرہ سڑکوں میں سے 376 کھل چکی ہیں جبکہ 77 میں سے 65 پل بحال کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریلیف اور بحالی کے کاموں کے لیے 4 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 5 ارب روپے جلد جاری کئے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے نے بتایا کہ لاکھ روپے وزیر اعلی ملین روپے نے کہا کے لیے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔