بھارت کے سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے ایک بار پھر اپنی انٹرنیشنل کرکٹ کے دوران درپیش مشکلات اور دھونی کے دورِ قیادت میں اپنے کردار کے محدود ہونے پر کھل کر بات کی ہے۔

عرفان پٹھان نے اپنے کیریئر کے آغاز میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ 2006 میں پاکستان کے خلاف ان کی ہیٹ ٹرک بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں یادگار ہے۔ لیکن دھونی کے کپتان بنتے ہی پٹھان کا کردار کم ہوتا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار نظرانداز ہونا صرف انجریز کی وجہ سے نہیں بلکہ انتخابی ناانصافیوں کی بدولت ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: آئی پی ایل نے عرفان پٹھان کو کمنٹری پینل سے باہر کیوں کردیا؟ اہم وجہ سامنے آگئی

2008 آسٹریلیا ٹور کا واقعہ

عرفان پٹھان نے بتایا کہ آسٹریلیا سیریز 2008 کے دوران میڈیا میں خبریں آئیں کہ دھونی نے کہا ہے وہ اچھی بولنگ نہیں کر رہے۔ اس پر پٹھان نے خود دھونی سے پوچھا تو جواب ملا کہ سب ٹھیک چل رہا ہے عرفان، کوئی مسئلہ نہیں لیکن یہ سلسلہ بار بار دہرایا گیا جس کے بعد پٹھان نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا۔

یہ بھی پڑھیے: ’ارشدیپ نے وہی کیا جو عرفان پٹھان نے کیا تھا‘ انضمام الحق کے الزام پر صارفین کے تبصرے

‘حقہ‘ کا بیان اور نیا تنازعہ

سب سے زیادہ توجہ پٹھان کے ایک جملے نے حاصل کی جب انہوں نے کہا کہ یکھیے، ہم سے نہ تو کمرے میں جا کر کسی کے لیے حقہ سیٹ کرنے کی عادت ہے۔

یہ بیان اگرچہ انہوں نے براہِ راست دھونی کے خلاف نہیں دیا لیکن بھارتی میڈیا اور شائقین نے اسے دھونی پر تنقید کے طور پر لیا۔ خاص طور پر اس وقت جب 2024 میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دھونی ہقہ پیتے نظر آئے تھے۔ ان کے سابق ساتھی جارج بیلی بھی یہ بتا چکے ہیں کہ دھونی کبھی کبھار نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے حقہ پیتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایم ایس دھونی عرفان پٹھان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایم ایس دھونی عرفان پٹھان عرفان پٹھان نے

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا