کراچی: ہل پارک کے قریب ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے27 سالہ شہری زخمی، ملزمان موٹرسائیکل چھین کر فرار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
کراچی میں شہید ملت روڈ پر ہل پارک کے قریب ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے27 سالہ شہری سید شہیر جاوید زخمی جب کہ نامعلوم مسلح ملزمان موٹرسائیکل چھین کر فرار ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق زخمی نوجوان کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے پہلے قریبی اسپتال اور بعد میں اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
زخمی شہیر جاوید پیشے کے لحاظ سے سائیکولوجسٹ ہیں، وہ ایکسپریس نیوزکے پروگرام ’شبیر تو دیکھے گا‘ کے سینئر اسکرپٹ رائٹر اور مشہورشاعر جاوید صبا کے صاحبزادے ہیں۔
پولیس جائے وقوع کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد جمع کرنے میں مصروف ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔