Daily Mumtaz:
2026-06-03@08:21:46 GMT

پاکستان کا آئی ایم ایف کرپشن رپورٹ پر تفصیلی جواب تیار

اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT

پاکستان کا آئی ایم ایف کرپشن رپورٹ پر تفصیلی جواب تیار

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی کرپشن اینڈ ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ پر اپنا مفصل جواب تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ سرکاری شعبے میں گورننس میں نمایاں بہتری آئی ہے اور کرپشن کے سدباب کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو مزید فعال کیا گیا ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں ٹرانسفارمیشن اور فیس لیس کسٹم کے اقدامات کے ذریعے کرپشن میں کمی لائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیٹیکلی ایکسپوزڈ پرسنز کے حوالے سے قوانین لاگو کیے گئے ہیں اور سول سرونٹس کے اثاثے ڈیکلیئر کرنے کے لیے قانون سازی مکمل ہو چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک مشن کے دوران کیے گئے تمام اقدامات کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایف بی آر نے ٹیکس اصلاحات بالکل انہی خطوط پر کی ہیں جو آئی ایم ایف اہداف میں شامل تھیں۔

مزید برآں پاکستان کا مؤقف ہے کہ ٹیکس نظام کو آسان اور شفاف بنانے کے لیے ٹرانسفارمیشن پلان پر عمل درآمد جاری ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر سپلیمنٹری گرانٹس کے لیے بجٹ ایڈجسٹمنٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف بی آر نے متعدد ٹیکس چھوٹ ختم کر دی ہیں اور صرف وہی چھوٹ برقرار رکھی گئی ہیں جو موجودہ قرض پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے ساتھ طے پائی تھیں۔

پاکستان اپنے تفصیلی جواب میں یہ مؤقف بھی اپنائے گا کہ اس نے نہ صرف اصلاحات کی ہیں بلکہ انہیں ادارہ جاتی سطح پر نافذ بھی کیا ہے، اس لیے آئی ایم ایف کو رپورٹ میں ان اقدامات کی عکاسی لازمی کرنی چاہیے تھی۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف پاکستان کا کے لیے

پڑھیں:

ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ

آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔

بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔

اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔

مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار