یو اے ای کپتان محمد وسیم نے روہت شرما کا بڑا ریکارڈ توڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
شارجہ (اسپورٹس ڈیسک) متحدہ عرب امارات کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد وسیم نے بھارتی بیٹر اور سابق ٹی ٹوئنٹی کپتان روہت شرما کا بڑا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ سہ ملکی سیریز میں افغانستان کے خلاف کھیلے گئے میچ میں وسیم نے کپتان کی حیثیت سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں سب سے زیادہ چھکے مارنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔
189 رنز کے تعاقب میں وسیم نے دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 37 گیندوں پر 67 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 6 شاندار چھکے اور 4 چوکے شامل تھے۔ اس شاندار کارکردگی کے ساتھ ہی انہوں نے صرف 54 اننگز میں 110 چھکے جڑ کر روہت شرما کا ریکارڈ توڑ دیا، جو 62 اننگز میں 105 چھکے لگا پائے تھے۔
محمد وسیم نے اس اننگز کے بعد نیوزی لینڈ کے سابق اوپنر مارٹن گپٹل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے بیٹرز کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آگئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں سب سے زیادہ چھکے مارنے کا ریکارڈ اب بھی بھارت کے روہت شرما کے پاس ہے جنہوں نے 159 میچز میں 205 چھکے لگائے۔ محمد وسیم نے 80 میچز میں 176 چھکے جڑ کر ان کے قریب ترین مقام حاصل کر لیا ہے۔
اگرچہ وسیم کی اننگز شاندار تھی لیکن اس کے باوجود یو اے ای ٹیم ہدف تک نہیں پہنچ سکی اور مقررہ اوورز میں 150 رنز بنا کر افغانستان سے 38 رنز سے شکست کھا بیٹھی۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی روہت شرما
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔