جرمنی نے بالآخر پاکستان میں پھنسے افغان مہاجرین کے ایک گروپ کو پناہ دے دی۔ یہ 47 افراد پر مشتمل 10 خاندان تھے، جو طالبان کے 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان منتقل ہوئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان مہاجرین استنبول سے ہنوور پہنچے، جہاں وزارتِ داخلہ نے ان کے داخلے کی تصدیق کی۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ سب افراد قانونی ویزا اور سیکیورٹی جانچ مکمل کرنے کے بعد جرمنی میں داخل ہوئے۔

ایئر برج کابل نامی امدادی تنظیم نے بتایا کہ باقی دو افراد بھی بعد میں پرواز کے ذریعے پہنچ گئے۔ ان میں شامل ایک افغان ماں اور بیٹی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع کے ساتھ نئی زندگی شروع کر سکیں گی۔

خیال رہے کہ جرمنی نے شروع میں ان افغانوں کو پناہ دینے کا وعدہ کیا تھا، جنہوں نے جرمن اداروں کے لیے کام کیا یا جنہیں طالبان کے دور میں خطرات لاحق تھے۔ تاہم، موجودہ حکومت نے مئی 2025 میں اس پروگرام کو روک دیا تھا، جس سے ہزاروں افغان پاکستان میں پھنس گئے۔

گزشتہ ماہ جرمنی نے بتایا تھا کہ 450 افغان شہری گرفتار کیے گئے، جن میں سے 200 کو واپس افغانستان بھیج دیا گیا۔ اب صرف وہ افغان، جنہیں عدالتوں نے ویزا دینے کا حکم دیا ہے، مرحلہ وار جرمنی لائے جا رہے ہیں۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں