سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے اسپیکٹرم کی نیلامی میں تاخیر پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ٹیرف میں اضافے اور سائبر فراڈز پر فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 5G اسپیکٹرم نیلامی کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کا فیصلہ

قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کے ڈیجیٹل اور ٹیلی کام سیکٹرز کو درپیش سنگین چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔

’اسپیکٹرم نیلامی میں تاخیر ڈیجیٹل ترقی کے لیے خطرہ ہے‘

فریکوئنسی الاٹمنٹ بورڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ سنہ 2021 سے پاکستان نے عالمی فائیو جی تقاضوں کے مطابق متعدد اسپیکٹرم بینڈز دستیاب کر دیے ہیں جن میں 30 میگا ہرٹز کا بینڈ بھی شامل ہے۔ تاہم قانونی پیچیدگیوں اور عدالتوں سے جاری اسٹے آرڈرز کے باعث نیلامی میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف اربوں روپے کا معاشی نقصان ہو رہا ہے بلکہ ملک کی ڈیجیٹل ترقی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

وزارت آئی ٹی کے اسپیشل سیکریٹری نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق اسپیکٹرم نیلامی دسمبر 2025 تک مکمل کر لی جائے گی۔

ٹیلی کام کمپنیوں پر الزامات اور مالی بے ضابطگیاں

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق معروف موبائل نیٹ ورک کمپنی جیز نے صارفین سے 6.

58 ارب روپے زائد وصول کیے اور ہر سہ ماہی میں 15 فیصد تک قیمتیں بڑھائیں، جو پی ٹی اے کی واضح منظوری کے بغیر کیا گیا۔ کمیٹی نے اس پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی اے اور آڈیٹر جنرل کے دفتر کو تمام متعلقہ دستاویزات اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیے: 20 کروڑ موبائل سمز سبسکرپشن کی خوشی میں کون سی سروسز فری میں دی جا رہی ہیں؟

علاوہ ازیں ایک اور کیس میں زونگ کی جانب سے 6.6 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کے مبینہ غیر قانونی استعمال پر بھی بات ہوئی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے باوجود معاملہ ماتحت عدالتوں میں زیر التوا ہے جس پر کمیٹی نے تاخیری حربوں پر تشویش کا اظہار کیا اور وزارت قانون کے نمائندوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔

سائبر کرائمز اور آن لائن فراڈ: بڑھتا ہوا خطرہ

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں آن لائن فراڈز سالانہ 30 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ان فراڈز میں غیر قانونی کال سینٹرز، جعلی قرض ایپس، آن لائن جوا، اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کی مہمات شامل ہیں۔

ایجنسی نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں 63 غیر قانونی کال سینٹرز بند کیے گئے 450 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور تقریباً 40 ملین روپے کی ریکوری عمل میں آئی۔

کمیٹی نے سائبر سیکیورٹی کے لیے اداروں کے درمیان مؤثر تعاون، مصنوعی ذہانت کے ذریعے خطرات کی بروقت نشاندہی اور بینکنگ سیکٹر کے ساتھ مربوط حکمت عملی پر زور دیا۔

اداروں سے تعاون نہ کرنے پر برہمی

کمیٹی نے یوفون کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تنخواہوں، عہدوں اور ادائیگیوں کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ اگر آئندہ اجلاس تک معلومات فراہم نہ کی گئیں تو استحقاق کی تحریک پیش کی جا سکتی ہے۔

کمیٹی کی سفارشات اور آئندہ لائحہ عمل

کمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ شفافیت، تیز تر عدالتی فیصلوں اور عوامی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اسپیکٹرم کی نیلامی، صارفین کے حقوق اور سائبر سیکیورٹی جیسے اہم معاملات پر عمل درآمد کو اگلے اجلاس میں مزید جانچا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان 5 جی لانچ کرنے میں ناکام کیوں؟ اصل وجہ سامنے آگئی

اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمان، پرویز رشید، ڈاکٹر افنان اللہ خان، ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند، سیف اللہ سرور نیازی، ندیم احمد بھٹو، اسپیشل سیکریٹری وزارت آئی ٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپیکٹرم نیلامی سینیٹ سینیٹ قائمہ کمیٹی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپیکٹرم نیلامی سینیٹ سینیٹ قائمہ کمیٹی نیلامی میں تاخیر اسپیکٹرم نیلامی قائمہ کمیٹی اجلاس میں کمیٹی نے کمیٹی کو

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ