2010ء اور 2020ء میں شوگر ملز ایسوسی ایشن کے درمیان کارٹلائزیشن کے شواہد موجود ہیں، سی سی پی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
اسلام آباد:
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ 2010ء اور 2020ء میں شوگر ملز ایسوسی ایشن میں کارٹلائزیشن کے شواہد ملے ہیں، مزید انکوائریاں ابھی جاری ہیں۔
چینی کی برآمد اور قیمتوں میں اضافہ کے معاملے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تجارت کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس مرزا اختیار بیگ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ ذیلی کمیٹی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے، ذیلی کمیٹی کو جلد اپنی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو پیش کرنی ہے، کمیٹی نے مختلف وزارتوں سے کچھ جوابات مانگے تھے جو آج وصول ہوئے ہیں، کمیٹی نے چینی کے اضافی ذخائر کی بنیاد پر فیصلے کی تفصیلات مانگی تھیں ہمیں وہ اولین ڈیٹا درکار ہے جس کی بنیاد پر چینی کی برآمد کا فیصلہ ہوا۔
مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ ایف بی آر نے بھی کچھ مراعات دیں ان کی معلومات چاہئیں، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اس چیز کا جواب دینا ہے کہ کس طرح غیر رجسٹرڈ کمپنیوں نے چینی برآمد کی، کیا ان شوگر ملز میں ایک ہی خاندان کے لوگ ہیں؟
حکام ایس ای سی پی نے کہا کہ سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن نے تمام 81 ملز کے شیئر ہولڈرز کا ڈیٹا فراہم کر دیا ہے۔
مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ چینی کی درآمد مہنگی ہے اس لیے ٹیکس رعایت دی گئی، کیا ملک میں چینی مہنگی ہے؟
وزارت فوڈ سیکیورٹی نے کہا کہ گزشتہ 10 میں سے 7 سال کے دوران ملک میں چینی عالمی مارکیٹ سے مہنگی تھی، کمیٹی کو گزشتہ 10 سال میں عالمی مارکیٹ اور مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں فرق کی معلومات فراہم کی جائیں۔
رکن کمیٹی حامد عتیق نے کہا کہ درآمد پر ٹیکس اور اسپننگ چارجز سے چینی عالمی مارکیٹ سے 30 روپے فی کلو مہنگی ہوجاتی ہے، حکومت نے چینی کی درآمد پر کسٹمز، سیلز ٹیکس ویلیو ایڈیڈ ٹیکس اور انکم ٹیکس کو آدھا کردیا، ٹیکس مراعات صرف حکومت کی درآمد کیلئے تھی، چینی کے شعبے کی ڈی ریگولیشن کیلئے وزیراعظم نے وزیر پاور اویس لغاری کی زیر صدارت قائم کی ہے۔
مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں سیکریٹری کمیٹی کو بلا کر ڈی ریگولیشن کے بارے میں اب تک ہوئی پیش رفت پر بریفنگ لی جائے۔
حکام مسابقتی کمیشن (سی سی پی) نے کہا کہ مسابقتی کمیشن کی 2010ء میں چینی کے شعبے کی پہلی انکوائری میں گٹھ جوڑ کر کے شواہد ملے تھے، اس طرح 2020ء کی انکوائری میں بھی کارٹل کے شواہد ملے، ان دونوں انکوائری میں شوگر ملز ایسوسی ایشن میں کارٹلائزیشن کے شواہد ملے ہیں۔
مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ 2010ء اور 2020ء والی انکوائری کے بعد کوئی انکوائری ہوئی تو اس بارے میں بتائیں۔
سی سی پی حکام نے کہا کہ مسابقتی کمیشن مزید انکوائری کررہا ہے مگر ابھی تک مکمل نہیں ہوئی، مسابقتی کمیشن نے 2021ء میں شوگر ملز ایسوسی ایشن اور ملز پر 44 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا، مسابقتی کمیشن کے فیصلے کو مختلف فورمز پر چیلنج کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں شوگر ملز ایسوسی ایشن مسابقتی کمیشن کے شواہد ملے میں چینی کمیٹی کو چینی کی
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔