چین اور پاکستان مصیبت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے والےبھائی ہیں، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
چین اور پاکستان مصیبت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے والےبھائی ہیں، چینی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 2 September, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، محمد شہباز شریف اس وقت 2025 شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس اور جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ اور عالمی فاشسٹ مخالف جنگ کی فتح کی 80 ویں یاد گار منانے کی سرگرمیوں میں شرکت کے لئے چین میں موجود ہیں۔منگل کے روز
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان مصیبت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے والے سچے دوست اور بھائی ہیں اور ایک دوسر ے پر اعتماد اور اصولوں پر قائم رہنے والے حقیقی دوست ہیں۔ تاریخ کے شدید امتحانات سے گزر کر پروان چڑھنے والی دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور مستحکم ہوئی ہے ۔ دونوں ممالک کو نئے دور میں قریبی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور چین پاک ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو تیز کرنا ہوگا تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو بہتر فائدہ پہنچے اور ہمسایہ ممالک کے لیے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے ایک مثال قائم کی جائے۔
شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اتحاد برقرار رکھنے، ترقی پر توجہ مرکوز کرنے اور اپنی قومی طاقت کو بڑھانے میں پاکستان کی حمایت کرتا ہے، اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے “2.
چین دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کی حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ پاکستان میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور دوطرفہ تعاون کے لئے محفوظ ماحول پیدا کرنے کے لئے پاکستان عملی اور موثر اقدامات کرے گا۔ فریقین کو اسٹریٹجک مواصلات کو مضبوط بنانا چاہیے، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو پر عمل درآمد کرنا چاہیے، مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا چاہیے اور بین الاقوامی شفافیت اور انصاف کا تحفظ کرنا چاہیے۔
پاکستان کے وزیراعظم محمدشہباز شریف نے جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ کی کامیابی کی 80 ویں یاد منانے پر مبارکباد دی۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے عالمی فاشسٹ مخالف جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا، چین کو بچایا اور دنیا کو بدل دیا۔ پاک چین دوستی کی گہری جڑیں 20 کروڑ سے زائد پاکستانی عوام کے دلوں میں پیوست ہیں اور ہر نسل چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی بے لوث مدد کو یاد رکھتی ہے اور کوئی بھی طاقت پاک چین دوستی کو ہلا نہیں سکتی۔
پاکستان ایک چین کے اصول پر سختی سے کاربند ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مسلسل مضبوط بنانے، مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور پاک چین تعلقات کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی تجویز عالمی امن، ترقی اور استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور پاکستان اس کی مکمل حمایت اور اس پر عمل درآمد یقینی بنائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسنگین جرائم میں مطلوب اشتہاری ملزم سعودی عرب سے گرفتار سنگین جرائم میں مطلوب اشتہاری ملزم سعودی عرب سے گرفتار قومی اسمبلی اجلاس؛ جنگلات کاٹنے اور دریاؤں پر سوسائٹیز بنانے کیخلاف کارروائی کا مطالبہ چیئرمین میپکو بورڈ نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے 19ملین روپے کا چیک دے دیا فتنۃ الخوارج ؛ معصوم بچوں، شہریوں اور تعلیم و امن کے سب سے بڑے دشمن دہشتگردوں کی مالی معاونت کےلئے پختونخوا سے بھاری مقدار میں سونے کی افغانستان اسمگلنگ اگر خاتون کو جنات نے غائب کیا ہے تو انہیں بھی فریق بنانا چاہیے تھا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اور پاکستان کے ساتھ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔