کوئٹہ : اختر مینگل کی گاڑی کے قریب خودکش دھماکا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شاہوانی اسٹیڈیم کے باہر خودکش دھماکا دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد کے زخمی ہوگئے جب کہ ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
دھماکا بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی گاڑی کے قریب ہوا۔ دھماکا اس وقت ہوا جب سردار اختر مینگل شاہوانی اسٹیڈیم سے باہر نکل رہے تھے تاہم دھماکے میں سردار اختر مینگل محفوظ رہے،
دھماکے کے بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جب کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جہاں دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے۔
پولیس کے مطابق دھماکے سے 4 گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا، زخمیوں کو سول اور بی ایم سی منتقل کیا جا رہا ہے، متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے جب کہ موقع پر امدادی آپریشن جاری ہے۔
دوسری جانب محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق حکومت نے شاہوانی اسٹیڈیم میں دھماکے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جب کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان نے واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا اور کہا ہے کہ عوام سے اپیل ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور اداروں سے تعاون کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اختر مینگل
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔