سدھارتھ شکلا کی چوتھی برسی: شہناز گل کی خاموشی پر مداحوں نے آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
ممبئی(نیوز ڈیسک) مقبول بھارتی اداکار سدھارتھ شکلا کی چوتھی برسی پر مداحوں نے ایک بار پھر اپنے پسندیدہ فنکار کو سوشل میڈیا پر یاد کیا اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تاہم، اس موقع پر ان کی قریبی ساتھی شہناز گل کی جانب سے کسی قسم کا پیغام یا پوسٹ سامنے نہ آنے پر مداحوں میں مایوسی اور غصہ دیکھنے میں آیا۔
سدھارتھ شکلا 2 ستمبر 2021 کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث اچانک انتقال کر گئے تھے۔ ان کی اچانک موت نے بھارتی شوبز انڈسٹری اور دنیا بھر میں ان کے لاکھوں چاہنے والوں کو صدمے سے دوچار کر دیا تھا۔ ہر سال اس دن ان کے مداح سوشل میڈیا پر ان کی یاد میں جذباتی پیغامات شیئر کرتے ہیں۔
رواں برس جب شہناز گل نے کسی پلیٹ فارم پر سدھارتھ کے بارے میں کچھ نہ لکھا تو سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ کچھ صارفین نے سخت تبصرے کرتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے اپنے قریبی ساتھی کو فراموش کر دیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا: “شرم آنی چاہیے، آپ نے سدھارتھ کو کیسے بھلا دیا”، جبکہ دوسرے نے الزام لگایا کہ “موت کو جذباتی دکھاوے کے لیے استعمال کیا اور پھر بھول گئے”۔
دوسری جانب شہناز کے حامیوں نے ان کا بھرپور دفاع کیا۔ ان کے مطابق کسی کو یاد کرنے یا غم منانے کا طریقہ ذاتی معاملہ ہے، اور اگر شہناز نے پوسٹ کی ہوتی تو لوگ یہ کہہ کر تنقید کرتے کہ وہ ہمدردی یا شہرت سمیٹ رہی ہیں۔ مداحوں نے یاد دلایا کہ شہناز نے ہمیشہ اپنی زندگی اور کام میں سدھارتھ کے اثرات کو مثبت انداز میں سمیٹا ہے، اس لیے خاموشی کو غلط تاثر نہیں دینا چاہیے۔
سدھارتھ اور شہناز کی قربت اور ان کی معصوم نوک جھونک کو مداح “سدناز” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بگ باس 13 میں ان کی کیمسٹری نے دونوں کو بے پناہ مقبولیت دلائی تھی، اور یہ تک خبریں گردش کرتی رہیں کہ دونوں دسمبر 2021 میں شادی کرنے والے تھے۔
اداکارہ اس وقت اپنی نئی فلم اک کُڑی کی پروموشن میں مصروف ہیں جو 19 ستمبر کو ریلیز ہوگی۔ فلم کے گانے وین اینڈ ویئر میں انہوں نے مشہور ریپر ہنی سنگھ کے ساتھ کام کیا ہے جو پہلے ہی مداحوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔