نئی جنگی ٹیکنالوجی: چین کے ونگ مین ڈرونز اور خودکار ہیلی کاپٹر نے سب کو حیران کردیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
بیجنگ: چین نے دوسری عالمی جنگ میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والی فوجی پریڈ میں جدید ترین جنگی ڈرونز اور بغیر پائلٹ ہیلی کاپٹرز متعارف کروائے ہیں۔
یہ ڈرونز غیر معمولی صلاحیتوں اور نئے ڈیزائن کے حامل ہیں جنہیں پہلی بار عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔
چینی میڈیا کے مطابق پریڈ میں مسلح ریکی ڈرون، ونگ مین ڈرون، ائیر سپیریئورٹی ڈرون اور بحری جہازوں سے اڑان بھرنے والے بغیر پائلٹ ہیلی کاپٹر شامل تھے۔
یہ ڈرونز اسٹیلتھ حملوں، خودکار آپریشنز اور فضائی جنگ میں نئے تصورات کو حقیقت کا روپ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ونگ مین ڈرونز پائلٹ کے حامل جنگی طیاروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کرتے ہیں اور فضائی برتری، دفاع اور ہدف کی نشاندہی جیسے مشنز انجام دیتے ہیں۔ یہ پائلٹس کو جنگی میدان کی مکمل صورتِ حال فراہم کرتے ہیں اور فیصلہ سازی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
پریڈ میں پیش کیے گئے ڈرونز میں کچھ ایسے ماڈل بھی شامل تھے جن کا ڈیزائن بغیر دم کے بنایا گیا ہے، جو زیادہ اسٹیلتھ کارکردگی فراہم کرتے ہیں اور ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ بغیر پائلٹ ہیلی کاپٹر بھی دکھایا گیا جو ریکی، ارلی وارننگ، اینٹی شپ اور اینٹی سب میرین مشنز سمیت کئی کام سرانجام دے سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر اپنے چھوٹے سائز کی وجہ سے مختلف بحری جہازوں پر زیادہ تعداد میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔