بیجنگ: چین نے دوسری عالمی جنگ میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ فوجی پریڈ میں دنیا کے جدید ترین ہتھیار متعارف کروائے جن میں ہائی انرجی لیزر اور ہائی پاور مائیکروویو ویپنز شامل ہیں۔

ان ہتھیاروں کو اینٹی ڈرون میزائل اور توپ خانے کے نظام کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق لیزر ہتھیار صرف چند سیکنڈز میں ڈرون کو نشانہ بنا سکتے ہیں، کیونکہ ان میں ہدف کو پہچاننے، اس پر فوکس کرنے اور تعاقب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

ہائی انرجی لیزر ہتھیار کم لاگت، لامحدود ایمونیشن اور اعلیٰ درستگی کی وجہ سے ایک سستا اور مؤثر ڈرون شکن نظام قرار دیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب ہائی پاور مائیکروویو ہتھیار طاقتور الیکٹرو میگنیٹک شعاعوں کے ذریعے ڈرون کے الیکٹرانک پرزے جلا دیتے ہیں جس سے وہ غیر فعال ہو جاتے ہیں۔ یہ نظام بیک وقت جتھوں کی صورت میں حملہ آور ہونے والے ڈرونز کو بھی ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پریڈ میں "ایل وائے وَن شپ بورن لیزر ویپن" کی پہلی جھلک بھی دکھائی گئی جو جنگی بحری جہازوں پر نصب کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار نہ صرف ڈرونز بلکہ اینٹی شپ میزائلوں اور دشمن کے آپٹیکل سینسرز کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے بحری جنگ کے اصول بدلنے کی صلاحیت موجود ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش