چین کے تجربات اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کررہے ہیں، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
بیجنگ:
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین کے تجربات اور ٹیکنالوجی سے استفاد کررہے ہیں، سی پیک کی بدولت ہماری زراعت اور صنعت بحال ہوئی۔
یہ بات انہوں ںے چین کے سرکاری دورے کے دوران بیجنگ میں منعقدہ دوسری پاکستان چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب میں کہی۔ کانفرنس میں متعدد پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان معاہدے اور ایم او یوز سائن کیے گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں شرکت باعث افتخار ہے، یہ کانفرنس پاک چین دوستی کی عکاس ہے، پاک چین دوستی احترام اعتماد اور تعاون پر مبنی ہے، چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، پاک چین دوستی دہائیوں پر محیط ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کو 20، 20 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سامنا تھا پھر نواز شریف کی حکومت آئی اور پاکستان چین کے درمیان سی پیک کا معاہدہ ہوا، چین کے تعاون سے اورنج لائن ٹرین اور سی پیک کی بدولت پاکستان میں تین برس کے دوران توانائی کے بحران پر قابو پالیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ چینی صدر نے 2015ء میں پاکستان کا دورہ کرکے سی پیک کی بنیاد رکھی اور اس کے تحت 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کی گئی، چین کے تعاون سے اورنج لائن ٹرین اور مختلف ڈیمز تعمیر کیے گئے، چین کے تجربات اور ٹیکنالوجی سے استفاد کررہے ہیں، سی پیک کی بدولت ہماری زراعت اور صنعت بحال ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا 60 فیصد انحصار زراعت پر ہے چین نے زراعت میں ہماری مدد کی، اسی طرح مائنز اینڈ منرلز کا شعبہ ہے جس میں چین اور ہمارا بہترین اشتراک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی پیک کی نے کہا کہ چین کے
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔