پاک چین دوستی نسل در نسل آگے بڑھے گی، صدر مملکت آصف زرداری کی شنگھائی میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مخالف اور دشمن عناصر پاک چین دوستی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ تعلقات نسل در نسل آگے بڑھیں گے اور وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوں گے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے شنگھائی میں سی پی سی سیکریٹری چن جینِنگ سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں بھی شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک چین دوستی آنے والے وقتوں میں مزید مستحکم ہوگی: صدر مملکت آصف زرداری
سی پی سی سیکریٹری نے کہاکہ ہر چینی پاکستان کو آئرن برادر اور ہر موسم کا ساتھی سمجھتا ہے۔ فروری میں صدر آصف علی زرداری کی صدر شی جن پنگ سے ملاقات نہایت نتیجہ خیز رہی، جس کے بعد حالیہ دنوں وزیراعظم پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس اور فسطائیت پر فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر چین کا دورہ کیا۔
چن جینِنگ نے مزید کہاکہ دونوں ممالک آئندہ سال تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منانے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شنگھائی میں صحت اور تعلیم پر بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جس کی بدولت یہاں اوسط عمر دیگر علاقوں سے زیادہ ہے، جب کہ شہر میں 9 ہزار سے زائد کافی شاپس ہیں جو دنیا کے کسی بھی شہر سے زیادہ ہیں۔
صدر زرداری نے شنگھائی کی عالمی مالیاتی مرکز میں تبدیلی کو سراہا اور کہا کہ پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز اور گوادر فری زون میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ملاقات کے دوران ٹیکنالوجی، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدت کے موضوعات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے وزرا شرجیل میمن اور ناصر حسین شاہ، پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی اور چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائی ڈونگ بھی موجود تھے، جبکہ چینی قیادت اور شنگھائی الیکٹرک کے صدر سمیت اعلیٰ حکام بھی ملاقات میں شریک تھے۔
ملاقات کے بعد سیکرٹری چن جینِنگ نے صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔
دریں اثنا صدر آصف علی زرداری نے شنگھائی میں چینی ماحولیاتی ٹیکنالوجی کمپنی کے سربراہ سے بھی ملاقات کی۔
اس موقع پر بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی شریک تھے۔ ملاقات میں شہروں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں پر بات چیت ہوئی۔
صدر نے پاکستان میں جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹمز کی ضرورت پر زور دیا جبکہ چینی کمپنی نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور شراکت داری میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
بعد ازاں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے شنگھائی میں ہونے والی ایک اہم تقریب میں شرکت کی جہاں پاکستان اور چین کے درمیان تین مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے۔
ان معاہدوں کا بنیادی مقصد پاکستان میں زراعت، ماحولیات اور ماس ٹرانزٹ کے شعبوں کو ترقی دینا ہے۔
تقریب میں خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی شریک تھے۔
پہلا ایم او یو کنٹرولڈ ایگریکلچر سائنس اینڈ ایجوکیشن پارک کے قیام سے متعلق ہے، جس کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ اور خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسرا ایم او یو شینونگ کالج کے ساتھ طے پایا، جس کے تحت کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کرنے کے لئے ایک ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان چین سرمایہ کاری کانفرنس، اربوں ڈالرز کے کون سے 21 معاہدے ہوئے؟
اسی طرح تیسرا ایم او یو ٹائر ری سائیکلنگ پروجیکٹ سے متعلق ہے، جس کا مقصد ماحول دوست فاضل مادہ کی مینجمنٹ کو فروغ دینا ہے۔
صدر مملکت آصف زرداری نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایم او یوز پاک چین زرعی، تکنیکی اور ماحولیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی عملی کوشش ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف زرداری اعلیٰ سطح ملاقاتیں صدر مملکت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعلی سطح ملاقاتیں صدر مملکت زرداری نے شنگھائی آصف علی زرداری نے شنگھائی میں سرمایہ کاری پاکستان میں بھٹو زرداری صدر مملکت پاک چین ایم او
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر