راولپنڈی سے رواں سال 3 ہزار افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
راولپنڈی پولیس نے رواں سال 3 ہزار افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کرنے کا ٹاسک مکمل کرلیا۔
ذرائع پنڈی پولیس کے مطابق ڈی پورٹ کیے گئے افغان شہریوں میں 1 ہزار 6 سو مرد، ساڑھے 5 سو خواتین اور 8سو 25بچے بھی شامل ہیں۔
ستمبر میں پولیس نے 2 سو 19 افغان شہریوں کو پکڑ کر ہولڈنگ کیمپ منتقل کیا، ہولڈنگ کیمپ منتقل کئے گئے افغان شہریوں میں سے 44 ڈی ورٹ کردیئے گئے جب کہ 173 افغان شہریوں کو آج کابل ڈیپورٹ کئے جانے کا امکان ہے۔
پولیس نے چونترہ سے45، صدر بیرونی سے73، گوجر خان سے 22 افغان شہریوں کو پکڑ کر ہولڈنگ کیمپ منتقل کیا۔ صدر واہ پولیس نے 12 افغانی پکڑے جب کہ دھمیال اور مندرہ سے دس دس افغان شہری گرفتار کرکے ہولڈنگ سینٹر منتقل کئے گئے۔
ٹیکسلا سے 8، جاتلی اور بنی سے سات سات، پیرودہائی اور نصیر آباد سے چھے چھے افغان شہری ہولڈنگ سینٹر منتقل کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان شہریوں کو پولیس نے
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔