بدین میں کروڑوں روپے مالیت کی کھاد کی 45 ہزار بوریاں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
بدین میں محکمہ زراعت سندھ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک گودام سے کھاد کی45 ہزار بوریاں برآمد کر لی ہیں، جن کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔
محکمہ زراعت کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف جاری مہم کے تحت کی گئی، جس دوران مذکورہ گودام میں بڑی مقدار میں کھاد غیرقانونی طور پر ذخیرہ کی گئی پائی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ گودام کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران گودام کا عملہ موقع سے فرار ہو گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، تاکہ مصنوعی قلت اور منافع خوری کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔